اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)پاکستان میں حکمران طبقے کا اعلیٰ معیار زندگی، شاہانہ پروٹوکول، بھاری سیکیورٹی حصار اور غیر ملکی دورے کوئی نئی بات نہیں۔ عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ پہلے ہی ان آسائشوں کی نظر ہو رہا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ ایک اور روایت بھی برسوں سے چلی آ رہی ہے۔حکمرانوں،صدور، وزراء اعظم، وزراء اعلیٰ اور بیوروکریٹس کا سرکاری خزانے سے حج اور عمرہ ادا کرنا۔
یہ سوال محض مذہبی نہیں بلکہ اخلاقی اور آئینی بھی ہے کہ ذاتی مذہبی فریضہ عوام کے پیسوں سے ادا کرنا کہاں تک جائز ہے؟جب ملک کی معاشی حالت ابتر ہو، مہنگائی عوام کی کمر توڑ چکی ہو، تنخواہ دار طبقہ ٹیکسوں کے بوجھ تلے سسک رہا ہو اور ریاست قرض در قرض لے کر نظام چلا رہی ہو، ایسے میں حکمران طبقے کا یہ رویہ دل دکھاتا ہے۔
حج اور عمرہ یقیناً عظیم عبادات ہیں، مگر عبادت کی روح تو ذاتی قربانی میں ہے، نہ کہ سرکاری پروٹوکول، بزنس کلاس ٹکٹوں، فائیو سٹارز ہوٹلوں اور اسٹیٹ گیسٹ کے اعزاز میں۔
اب تازہ مثال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی وہ سفارشات ہیں جن کے تحت ہر سال ربیع الاول میں 10 رکنی پارلیمانی وفد کو سرکاری خرچ پر مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ بھیجنے کی تجویز دی گئی ہے۔مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ میں پارلیمانی وفد کے کھانے پینے کے اخراجات قومی اسمبلی برداشت کرے گی۔
وفد کے قیام کے لیے ہوٹلوں یا سرکاری رہائش گاہوں میں انتظام کیا جائے گا۔ ساتھ ہی وفد کے ساتھ پروٹوکول آفیسر کی تعیناتی اور قائمہ کمیٹی کے سیکریٹری کو بھی وفد میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دلیل یہ دی جا رہی ہے کہ یہ وفد پاکستانی عوام کی جانب سے روضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام پیش کرے گا۔سوال یہ ہے کہ کیا عوام نے واقعی اپنی عقیدت اور مذہبی فریضے کی نمائندگی کا اختیار بھی ان نمائندوں کو دے دیا ہے؟
کیا عوام صرف اس لیے ووٹ دیتے ہیں کہ ان کے نام پر منتخب افراد سرکاری خزانے سے عبادت بھی کریں، رہائش اور کھانا بھی حکومت فراہم کرے، طبی سہولیات بھی، ٹرانسپورٹ بھی اور مکمل سفارتی پروٹوکول بھی؟
شرم کی بات یہ ہے کہ جس عوام کو بنیادی صحت، تعلیم اور روزگار میسر نہیں، اسی عوام کے ٹیکس سے اسی عوام کی جانب سے جذبات کی نمائندگی کی تجویز دی جا رہی ہے۔اگر عبادت واقعی خلوص سے مقصود ہو تو نجی حیثیت میں اپنی جیب سے کیوں نہیں؟
کیا عبادت کا اجر اب قومی اسمبلی کے بجٹ سے مشروط ہو چکا ہے؟آخر میں ناگزیر سوال یہ ہے کہ عوام کے منتخب نمائندوں کو اپنے پروٹوکول اور شاہانہ خرچوں کی طرح حج و عمرہ جیسے مذہبی فریضے کے لیے بھی عوام کا پیسہ کیوں چاہیے؟












