بیجنگ : (پاک ترک نیوز)دنیا کی فضاؤں میں ایک ایسا انقلاب آنے والا ہے ، جس نے امریکی دفاعی ماہرین کی نیندیں اُڑا دی ہیں۔ چین جلد ایک ایسا دیوہیکل فضائی ہتھیار آزمانے جا رہا ہے جسے ماہرین ”اڑتا ہوا ڈرون بیس“ قرار دے رہے ہیں۔
ایک ایسا جہاز جو ہزاروں ڈرونز کو ایک ہی وقت میں فضا میں لانچ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ معمولی ڈرون یا عام جنگی طیارہ نہیں، بلکہ 15 ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرنے والا ایسا دیو ہے جو 7 ہزار کلومیٹر تک بغیر رُکے سفر کر سکتا ہے۔
اس کی سب سے خطرناک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ساتھ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں چھوٹے خودکار ڈرونز فضا میں چھوڑ سکتا ہے، جو دشمن کے دفاعی نظام کو چند لمحوں میں مفلوج کر سکتے ہیں۔
اگر ڈرونز کے بجائے ہتھیاروں کی بات کی جائے تو یہ جہاز ایک ہزار کلوگرام تک کے میزائل بھی لے جا سکتا ہے۔ یعنی یہ طیارہ ایک ہی مشن میں جاسوسی، حملہ اور مکمل فضائی کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
دفاعی ماہرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ جب ایک ملک کے پاس ایسا فضائی پلیٹ فارم آ جائے جو پورے خطے میں خودکار حملے کر سکے، تو طاقت کا توازن کہاں جا کر رُکے گا؟
امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی ڈرون وارفیئر میں چین کی تیز رفتار ترقی سے پریشان ہیں، اور اس جدید چینی جہاز کا جون 2026ءمیں پہلا ٹیسٹ فلائٹ اس خدشے کو حقیقت میں بدلتا نظر آ رہا ہے۔
کیا یہ طیارہ مستقبل کی جنگوں کا نقشہ بدل دے گا؟ کیا آسمان اب انسانوں کے نہیں بلکہ خودکار مشینوں کے کنٹرول میں جا رہے ہیں؟ یہ صرف ایک طیارہ نہیں۔ یہ آنے والی جنگوں کا پری ویو ہے۔












