تہران : (پاک ترک نیوز)آبنائے ہرمز وہ نازک ترین سمندری راستہ ہے جہاں سے روزانہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پر جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں اور ایک سوال پوری دنیا کو پریشان کر رہا ہے: اگر ایران نے آبنائے ہرمز بند کر دی تو کیا ہوگا؟
کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس موجود بحری بارودی سرنگیں اس کی سب سے خطرناک سمندری طاقت ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق M A52 جیسی جدید بحری بارودی سرنگیں اتنی طاقتور ہیں کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز تک کو ناکارہ بنا سکتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل سمیت ایران کے مخالف ممالک سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں۔ان سرنگوں کی اصل دہشت ان کی خاموشی ہے۔ یہ بارودی سرنگیں آسانی سے ریڈار پر نظر نہیں آتیں۔
یہ جہاز کے شور، دباؤ یا دھات کے اثر سے خودکار طور پر متحرک ہو سکتی ہیں، جس سے ان کا سراغ لگانا اور ناکارہ بنانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں بحری سرنگیں موجود ہیں، جنہیں آبدوزوں، چھوٹی کشتیوں اور لاجسٹک بحری جہازوں کے ذریعے خاموشی سے بچھایا جا سکتا ہے۔
تنگ سمندری راستوں میں یہ حکمتِ عملی دشمن بحری بیڑے کے لیے ایک خوفناک جال بن سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنا طویل المدت حل نہیں، لیکن چند دنوں کی رکاوٹ بھی عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں، بحری انشورنس رک جائے اور دنیا ایک نئے معاشی بحران کے دہانے پر کھڑی ہو جائے۔ سوال یہ نہیں کہ ایران یہ کر سکتا ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے: اگر یہ ہوا تو دنیا کتنی دیر سنبھل پائے گی؟












