تہران : (پاک ترک نیوز)کیا واقعی امریکا ایران پر حملہ کرے گا؟ یا پھر آخری لمحے ، ایک بار پھر جنگ سے پیچھے ہٹ جائے گا؟
عالمی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حالات جتنے بھی گرم ہوں، امریکا کے لیے ایران پر براہِ راست حملہ کرنا آسان فیصلہ نہیں۔ اس کی قیمت بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔
بھارتی دفاعی تجزیہ کار پراوین سوہنی کے مطابق اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو جواب صرف ایران تک محدود نہیں رہے گا۔ ایران کی جوابی کارروائی اسرائیل کو براہِ راست لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور اندازہ ہے کہ اس صورت میں آدھا اسرائیل تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہی وہ خطرہ ہے جس نے واشنگٹن میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
ایرانی نژاد امریکی پروفیسر فواد ایزدی اس سے بھی زیادہ سنجیدہ تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران، خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا سکتا ہے، جہاں سینکڑوں نہیں بلکہ کم از کم 500 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ یہ وہ تابوت ہوں گے جو امریکا واپس جائیں گے، اور امریکی عوام کے لیے یہ منظر ناقابلِ برداشت ہو سکتا ہے۔لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ ایران کی حکمتِ عملی میں خلیجی ممالک کی آئل ریفائنریز بھی شامل ہو سکتی ہیں، خاص طور پر وہ ممالک جہاں امریکی فوج تعینات ہے۔
متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر اور عمان مگر سب سے زیادہ خطرہ امارات کو بتایا جا رہا ہے۔
تیل کی تنصیبات پر حملہ، عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دے گا۔ان تمام ممکنہ نقصانات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے: کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی یہ رسک لیں گے؟ بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ اتنی بڑی قیمت دیکھ کر ٹرمپ کوئی بہانہ بنا کر “پتلی گلی” سے نکلنے کو ترجیح دیں گے۔ بس شرط یہ ہے کہ اس گلی میں آگے کوئی نیا اسکینڈل کھڑا نہ ہو۔












