واشنگٹن : (پاک ترک نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تو ان کا مواخذہ کر دیا جائے گا۔
واشنگٹن ڈی سی میں ریپبلکن ارکانِ کانگریس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان پر کنٹرول برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، جہاں اس وقت ریپبلکنز کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا:”آپ کو مڈٹرم الیکشن جیتنے ہی ہوں گے، کیونکہ اگر ہم یہ الیکشن ہار گئے تو ڈیموکریٹس کوئی نہ کوئی وجہ نکال کر میرا مواخذہ کر دیں گے۔ میں مواخذے کی زد میں آ جاؤں گا۔”
امریکی آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان کو صدر یا دیگر اعلیٰ حکام کے خلاف بدعنوانی، غداری، رشوت یا سنگین جرائم کے الزامات پر مواخذہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
مواخذے کے بعد صدر کا مقدمہ سینیٹ میں چلتا ہے، جہاں دو تہائی اکثریت سے سزا کی صورت میں صدر کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے۔
نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستیں جبکہ سینیٹ کی 33 نشستیں داؤ پر ہوں گی۔ ایوانِ نمائندگان کے ارکان آبادی کی بنیاد پر بنائے گئے حلقوں سے منتخب ہوتے ہیں، جبکہ سینیٹرز کا انتخاب پورے صوبے یا ریاست سے کیا جاتا ہے۔
صدر ٹرمپ اس وقت ریپبلکن اکثریتی ریاستوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ نئے انتخابی حلقے اس انداز سے تشکیل دیں جو ریپبلکن پارٹی کے حق میں ہوں۔ اس عمل کو جیری مینڈرنگ کہا جاتا ہے، جسے ناقدین غیر جمہوری قرار دیتے ہیں۔
ٹیکساس، مسوری اور نارتھ کیرولائنا میں ریپبلکنز کے حق میں حلقہ بندیاں کی جا چکی ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس نے کیلیفورنیا میں بیلٹ کے ذریعے اپنی حلقہ بندی منظور کروائی ہے۔
مختلف سرویز کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت اس وقت 42 سے 45 فیصد کے درمیان ہے۔ امریکی معیشت میں سست روی کے آثار اور وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے سے متعلق حالیہ امریکی فوجی کارروائی کی غیر مقبولیت ڈیموکریٹس کو فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
اس کے باوجود صدر ٹرمپ پُراعتماد دکھائی دیے اور کہا:”ہم تاریخ رقم کریں گے اور ایک شاندار، ریکارڈ توڑ مڈٹرم فتح حاصل کریں گے۔”تاہم انہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار بھی کیا کہ ریپبلکن پالیسیوں کے باوجود عوامی حمایت زیادہ کیوں نہیں۔
ٹرمپ نے کہا:”کاش کوئی مجھے سمجھا سکے کہ عوام کے ذہن میں آخر چل کیا رہا ہے؟ ہماری پالیسیاں درست ہیں، جبکہ ان کی پالیسیاں خوفناک ہیں۔ وہ متحد رہتے ہیں، وہ پرتشدد اور بے رحم ہیں۔”
گزشتہ ایک سال کے دوران کچھ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کے مواخذے کا مطالبہ کیا، خاص طور پر ایران پر جون میں کیے گئے فوجی حملوں پر، جن کی کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی تھی۔ تاہم ڈیموکریٹس اقلیت میں ہونے کے باعث کوئی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ اپنے پہلے دورِ صدارت میں دو مرتبہ مواخذے کا سامنا کر چکے ہیں۔ 2019 میں یوکرین کو دی جانے والی امداد کے بدلے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے الزام پر، جبکہ 2021 میں کیپیٹل ہل پر حملے کے بعد انہیں بغاوت پر اکسانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔
دونوں مرتبہ سینیٹ نے صدر ٹرمپ کو بری کر دیا تھا۔ امریکی تاریخ میں آج تک کوئی صدر سینیٹ کے ذریعے عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکا۔












