اسلام آباد: (پاک ترک نیوز)پاکستان نے لیتھیم آئن بیٹریوں کی مقامی اسمبلنگ اور تیاری کے لیے چین کے ساتھ 558 ملین ڈالر مالیت کے معاہدوں پر بات چیت شروع کر دی ہے، جن کا مقصد ویلیو ایڈیشن، مقامی معدنی وسائل کے استعمال اور درآمدات پر انحصار کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق حکومت چینی کمپنیوں کے ساتھ بزنس ٹو بزنس بنیادوں پر شراکت داری کو فروغ دے رہی ہے تاکہ ملک میں موجود معدنی ذخائر سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور بیٹریوں کی گھریلو سطح پر تیاری کو ممکن بنایا جا سکے۔
اس سلسلے میں مرحلہ وار مقامی سپلائی پلان بھی تیار کر لیا گیا ہے، جس کے تحت موجودہ خامیوں، درآمدی انحصار، جوائنٹ وینچر کے مواقع اور ضروری پالیسی اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ امور وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے زیر صدارت لیتھیم آئن بیٹری پالیسی سے متعلق اعلیٰ سطح اجلاس میں زیر بحث آئے۔
اجلاس میں سیکرٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو حماد منصور اور نجی شعبے کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران نیشنل لیتھیم آئن بیٹری مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2031 پر ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
معاونِ خصوصی نے اس بات پر زور دیا کہ توانائی ذخیرہ کرنے سے متعلق پالیسی کو پاکستان کے قومی توانائی تحفظ کے فریم ورک کے ساتھ ہم آہنگ کیا جانا چاہیے، جیسا کہ وزیر اعظم کی ہدایات ہیں۔
ہارون اختر خان نے نجی شعبے اور عالمی سرمایہ کاروں کے ساتھ شراکت داری کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی تعاون کے بغیر جدید توانائی ٹیکنالوجی میں خود کفالت ممکن نہیں۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مقامی بیٹری مینوفیکچرنگ کے ذریعے توانائی کے شعبے کو مضبوط بنایا جائے اور صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے۔












