اتوار , 7 جون , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

پاک افغان سرحد کی بندش ،افغانستان کی معیشت گھٹنوں پر آ گئی

6 مہینے پہلے
A A
پاک افغان سرحد کی بندش ،افغانستان کی معیشت گھٹنوں پر آ گئی
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار
دنیا کے کسی بھی ملک نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔البتہ 2021میں انکے اقتدار میں آنے کے بعد صرف نصف درجن ملکوں روس، پاکستان ، چین، ایران ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے افغانستان سے عمومی سفارتی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ افغانستان دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شامل ہے جس کی 76فیصد سے زیادہ آبادی ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اور 1996 سے2001تک اپنے پہلے پانچ سالہ دور اقتدار کے متضاد موجودہ طالبان قیادت ملکی ترقی و استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لئےکوئی بھی قابل قدر اقدام نہیں اٹھا سکی ۔البتہ چار دہائیوں تک پاکستان میں پرورش پانے والوں نے تمام تر احسانات کا حساب برابر کرتے ہوئے پاکستان کے دشمنوں کی سرپرستی میںپاکستان میں دہشتگردی کرنے والےخوارج و فتنہ بازوںکو گلے لگائے رکھنے کی ٹھان لی ہے۔حتیٰ کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد اپنے مربی قظر اور ترکیہ کی ثالثی کو بھی کسی کھاتے میں نہ لاتے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے کی تمام کوششوں کوپس پشت ڈال دیا ہے۔
نتیجتاً11 اکتوبرسے پاک۔ افغان سرحد کی بندش سے اب تک افغانستان کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان ہو چکا ہے۔افغانستان سے سبزیوں اور فروٹ کی واحد برآمدی منڈی ہمیشہ سے پاکستان ہی رہا ہے۔ مگر اس بار سرحد کی بندش کی وجہ سے انکا مال سرحد پر کھڑے ٹرکوں میں ہی خراب ہو گیا ۔جبکہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح ہندو کی محبت میں گرفتار نام نہاد طالبان اپنے برآمد کنندگان کو نئی منڈیاں تلاش کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ سرحد بند ہونے سے افغانستان کو سخت ترین معاشی نتائج کا سامنا ہے۔جس کے نتیجے میں اب تک 20کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ صرف ایک ماہ میں صرف طورخم سے ساڑھے چار کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ جبکہ 5,000 سے زیادہ ٹرک سرحدی مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔اور پاکستانی منڈیوں میں داخلے کے منتظر تھے۔اس بحران سے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ افغانستان کی80 فیصد سے زیادہ تجارت کا انحصار پاکستانی بندرگاہوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک پر ہے۔ افغانستان میں خوراک کے بنیادی اجزا جیسے گندم کا آٹا، گھی اور چچینی وغیرہ کی اکثریت اور50فیصدسے زیادہ ادویات بھی پاکستان کے راستے منتقل ہوتی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو صرف انتہائی ضروری اشیاتک محدود کرنے اور سرحد کی بندش اور کڑی نگرانی کے نتیجے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان تعیش ، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جس سے افغانستان کی معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ سرحد کی بندش کا افغانستان کے اندر اثر سماجی طور پر بھی تباہ کن رہا ہے۔ سمگلنگ روکے جانے کے بعد ہر طرح کی غیر قانونی تجارت سے وابستہ دو سے تین لاکھ افراداپنے آمدن کے ذرائع کھو چکے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش اور نگرانی کے ذریعے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے سے نہ صرف طویل مدت سے جاری غیر قانونی اسلحے اور منشیات کی آمدن بند ہو جائے گی ۔بلکہ اس سےخوارج اور فتنوں کی مالی معاونت پر بھی روک لگ جائے گی۔حکام کے مطابق افغانستان سے پاکستان کو اسمگلنگ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی پاکستان واپسی سے قومی خزانے کو سالانہپانچکھرب روپےسے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا ۔ چنانچہسرحد کی بندش کا یہ اقدام سیاسی تناؤ کا ردعمل نہیں ہے بلکہ منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ہتھیاروں کی نقل و حرکت اور عسکریت پسندوں کی دراندازی سے منسلک ایک غیر قانونی تجارتی راہداری کو ختم کرنے کے لیے ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کے بہتر انتظام سے پاکستان اگلےپانچ سالوں میں طویل مدتی فوائد دیکھنا شروع کر دے گا۔ جس میں بہتر سرحدی سیکورٹی، اقتصادی رساو میں کمی، اور سرحد پار تجارتی ماحول کو مزید منظم کرنا شامل ہے۔اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ افغانستان کو بالآ خر اپنی برآمدات و درآمدات کے لئے پاکستان کے ہی پاس آنا پڑے گا کیونکہ کراچی کی بجائے ایران اور وسط ایشیائی ملکوں کے روٹ استعمال کرنے سے جہاں سامان کی ترسیل کا وقت تین گنا تک بڑھ گیا ہے وہیں لاگت بھی دوگنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مگر اس سب کے باوجود تجزیہ کاروں کی رائے میںہندو کی گود میں جا بیٹھنے والے ناخلف افغان طالبان سے فوری طورپر کسی قومی وملی سوچ کے حامل فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

موضوعات : bordereconomypakafghantenshionpakistan
ShareSend

متعلقہ خبریں

حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان
اہم ترین

حکومت کا چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان

5 جون , 2026
پاکستان ،امریکا میں بہترین شراکت داری ہے ،نیٹلی بیکر
اہم ترین 2

پاکستان ،امریکا میں بہترین شراکت داری ہے ،نیٹلی بیکر

4 جون , 2026
Pakistan is playing a roulette four-piece in these rigs, cis foreign office spokespeople
اہم ترین 2

پاکستان خطے میں امن کے لیے کردار ادا کر رہا ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

4 جون , 2026
Turkish Foreign Minister gives a stern response to India over friendship with Pakistan
تازہ ترین

ترک وزیرخارجہ کا پاکستان سے دوستی پربھارت کو کرارا جواب

4 جون , 2026
Industries will get Rs200 billion rebate on raw material imports in the next fiscal year.
تازہ ترین

آئندہ مالی سال میں صنعتوں کو خام مال کی درآمد پر 200ارب روپے کی چھوٹ ملے گی

3 جون , 2026
Federal budget likely to be presented on June 10 instead of June 5
تازہ ترین

وفاقی بجٹ 5کی بجائے 10جون کو پیش کیا جانے کا امکان

2 جون , 2026
اگلی خبر
بھارت طیارہ حادثے کے بعد آرمیینا سے مہنگے دفاعی معاہدہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

بھارت طیارہ حادثے کے بعد آرمیینا سے مہنگے دفاعی معاہدہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

یہ بھی پڑھیں

ایران مزید تحمل نہیں کرے گا، امریکی دباؤ کا بھرپور جواب دیا جائے گا،ابراہیم رضائی

ایران مزید تحمل نہیں کرے گا، امریکی دباؤ کا بھرپور جواب دیا جائے گا،ابراہیم رضائی

6 جون , 2026
کوہ سلیمان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی ،2دہشت گرد ہلاک

کوہ سلیمان میں سی ٹی ڈی کی کارروائی ،2دہشت گرد ہلاک

6 جون , 2026
پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، سیاسی ،انتظامی صورتحال کا جائزہ

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ، سیاسی ،انتظامی صورتحال کا جائزہ

6 جون , 2026
Pakistan and China's alliance exposes India's weaknesses

پاکستان اور چین کا اتحاد، بھارت کی کمزوریاں عیاں

6 جون , 2026
Pakistan receives LNG cargo from Qatar

پاکستان نے قطر سے ایل این جی کارگو حاصل کر لیے

6 جون , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2025 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔