اتوار , 26 جولائی , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
پاک ترک نیوز
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
Home تازہ ترین

پاک افغان سرحد کی بندش ،افغانستان کی معیشت گھٹنوں پر آ گئی

8 مہینے پہلے
A A
پاک افغان سرحد کی بندش ،افغانستان کی معیشت گھٹنوں پر آ گئی
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار
دنیا کے کسی بھی ملک نے افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔البتہ 2021میں انکے اقتدار میں آنے کے بعد صرف نصف درجن ملکوں روس، پاکستان ، چین، ایران ترکیہ اور متحدہ عرب امارات نے افغانستان سے عمومی سفارتی تعلقات استوار کر رکھے ہیں۔
اقوام متحدہ کے اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ افغانستان دنیا کے غریب ترین ملکوں میں شامل ہے جس کی 76فیصد سے زیادہ آبادی ہر قسم کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ اور 1996 سے2001تک اپنے پہلے پانچ سالہ دور اقتدار کے متضاد موجودہ طالبان قیادت ملکی ترقی و استحکام اور عوام کی خوشحالی کے لئےکوئی بھی قابل قدر اقدام نہیں اٹھا سکی ۔البتہ چار دہائیوں تک پاکستان میں پرورش پانے والوں نے تمام تر احسانات کا حساب برابر کرتے ہوئے پاکستان کے دشمنوں کی سرپرستی میںپاکستان میں دہشتگردی کرنے والےخوارج و فتنہ بازوںکو گلے لگائے رکھنے کی ٹھان لی ہے۔حتیٰ کہ پاکستان کے ساتھ سرحدی جھڑپوں کے بعد اپنے مربی قظر اور ترکیہ کی ثالثی کو بھی کسی کھاتے میں نہ لاتے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے کی تمام کوششوں کوپس پشت ڈال دیا ہے۔
نتیجتاً11 اکتوبرسے پاک۔ افغان سرحد کی بندش سے اب تک افغانستان کو بڑے پیمانے پر معاشی نقصان ہو چکا ہے۔افغانستان سے سبزیوں اور فروٹ کی واحد برآمدی منڈی ہمیشہ سے پاکستان ہی رہا ہے۔ مگر اس بار سرحد کی بندش کی وجہ سے انکا مال سرحد پر کھڑے ٹرکوں میں ہی خراب ہو گیا ۔جبکہ اپنے پیش رو حکمرانوں کی طرح ہندو کی محبت میں گرفتار نام نہاد طالبان اپنے برآمد کنندگان کو نئی منڈیاں تلاش کرنے کے مشورے دے رہے ہیں۔ سرحد بند ہونے سے افغانستان کو سخت ترین معاشی نتائج کا سامنا ہے۔جس کے نتیجے میں اب تک 20کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔ صرف ایک ماہ میں صرف طورخم سے ساڑھے چار کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا۔ جبکہ 5,000 سے زیادہ ٹرک سرحدی مقامات پر پھنسے ہوئے ہیں۔اور پاکستانی منڈیوں میں داخلے کے منتظر تھے۔اس بحران سے یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ افغانستان کی80 فیصد سے زیادہ تجارت کا انحصار پاکستانی بندرگاہوں اور سڑکوں کے نیٹ ورک پر ہے۔ افغانستان میں خوراک کے بنیادی اجزا جیسے گندم کا آٹا، گھی اور چچینی وغیرہ کی اکثریت اور50فیصدسے زیادہ ادویات بھی پاکستان کے راستے منتقل ہوتی ہیں۔
پاکستان کی جانب سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کو صرف انتہائی ضروری اشیاتک محدود کرنے اور سرحد کی بندش اور کڑی نگرانی کے نتیجے میں ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان تعیش ، اسلحہ اور منشیات کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی ہے۔ جس سے افغانستان کی معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ سرحد کی بندش کا افغانستان کے اندر اثر سماجی طور پر بھی تباہ کن رہا ہے۔ سمگلنگ روکے جانے کے بعد ہر طرح کی غیر قانونی تجارت سے وابستہ دو سے تین لاکھ افراداپنے آمدن کے ذرائع کھو چکے ہیں۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سرحد کی بندش اور نگرانی کے ذریعے اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے سے نہ صرف طویل مدت سے جاری غیر قانونی اسلحے اور منشیات کی آمدن بند ہو جائے گی ۔بلکہ اس سےخوارج اور فتنوں کی مالی معاونت پر بھی روک لگ جائے گی۔حکام کے مطابق افغانستان سے پاکستان کو اسمگلنگ اور ٹرانزٹ ٹریڈ کے سامان کی پاکستان واپسی سے قومی خزانے کو سالانہپانچکھرب روپےسے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑ رہا تھا ۔ چنانچہسرحد کی بندش کا یہ اقدام سیاسی تناؤ کا ردعمل نہیں ہے بلکہ منشیات کی اسمگلنگ، غیر قانونی ہتھیاروں کی نقل و حرکت اور عسکریت پسندوں کی دراندازی سے منسلک ایک غیر قانونی تجارتی راہداری کو ختم کرنے کے لیے ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
پالیسی سازوں کا خیال ہے کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کے بہتر انتظام سے پاکستان اگلےپانچ سالوں میں طویل مدتی فوائد دیکھنا شروع کر دے گا۔ جس میں بہتر سرحدی سیکورٹی، اقتصادی رساو میں کمی، اور سرحد پار تجارتی ماحول کو مزید منظم کرنا شامل ہے۔اس امر کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ افغانستان کو بالآ خر اپنی برآمدات و درآمدات کے لئے پاکستان کے ہی پاس آنا پڑے گا کیونکہ کراچی کی بجائے ایران اور وسط ایشیائی ملکوں کے روٹ استعمال کرنے سے جہاں سامان کی ترسیل کا وقت تین گنا تک بڑھ گیا ہے وہیں لاگت بھی دوگنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔
مگر اس سب کے باوجود تجزیہ کاروں کی رائے میںہندو کی گود میں جا بیٹھنے والے ناخلف افغان طالبان سے فوری طورپر کسی قومی وملی سوچ کے حامل فیصلے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

موضوعات : bordereconomypakafghantenshionpakistan
ShareSend

متعلقہ خبریں

دوسرا ون ڈے ،سری لنکا ویمن ٹیم نے پاکستان کو شکست دیدی
تازہ ترین

دوسرا ون ڈے ،سری لنکا ویمن ٹیم نے پاکستان کو شکست دیدی

25 جولائی , 2026
پاکستان کی امریکا ،ایران مذاکرت بحالی کی کوششیں تیز
اہم ترین 2

پاکستان کی امریکا ،ایران مذاکرت بحالی کی کوششیں تیز

24 جولائی , 2026
Kenya's goal to join the ranks of developed nations by 2060.
تازہ ترین

کینیا کا 2060تک ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہونے کا ہدف

24 جولائی , 2026
پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم
پاکستان

پاکستان اور یورپی یونین کا شراکت داری مزید مضبوط بنانےکا عزم

22 جولائی , 2026
The world acknowledges Pakistan's role as a mediator in the Iran-US conflict.
تازہ ترین

ایران امریکہ جنگ،پاکستان کے ثالثی کردار کی دنیا معترف

22 جولائی , 2026
ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے
پاکستان

ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی پاکستان پہنچ گئے

20 جولائی , 2026
اگلی خبر
بھارت طیارہ حادثے کے بعد آرمیینا سے مہنگے دفاعی معاہدہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

بھارت طیارہ حادثے کے بعد آرمیینا سے مہنگے دفاعی معاہدہ سے بھی ہاتھ دھو بیٹھا

یہ بھی پڑھیں

Cadbury chocolate bar recalled in Canada.

کینیڈا میں کیڈبری چاکلیٹ بار واپس منگوا لیا گیا

26 جولائی , 2026
New features introduced in NADRA's Pak-ID app; digital vehicle registration service launched for citizens of Balochistan.

نادرا کی پاک آئی ڈی ایپ میں نئے فیچرز متعارف، بلوچستان کے شہریوں کے لیے ڈیجیٹل گاڑی رجسٹریشن سروس شروع

26 جولائی , 2026
Contact lost with Qatar Airways aircraft; Royal Air Force fighter jets intercepted and escorted it to Manchester.

قطر ایئرویز کے طیارے کا رابطہ منقطع، رائل ایئر فورس کے لڑاکا طیاروں نے گھیر ے میں لے کر مانچسٹر پہنچایا

26 جولائی , 2026
Ukraine's Chargé d'Affaires summoned to the Iranian Foreign Ministry; protest lodged over the attack on an Iranian commercial vessel.

یوکرین کے ناظم الامور کی ایرانی وزارت خارجہ میں طلبی ، ایرانی تجارتی جہاز پر حملے پر احتجاج ریکارڈ

26 جولائی , 2026
Trump's formidable plan against Iran Deployment of electronic warfare aircraft.

ٹرمپ کا ایران کیخلاف خوفناک منصوبہ ،برقی جنگی طیاروں کی تعیناتی

26 جولائی , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

فیس بک ٹویٹر انسٹاگرام یوٹیوب

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
کوئی نتیجہ نہیں
تمام نتائج دیکھیں
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Urdu
English