
از: سہیل شہریار
پاکستان اور افغانستان کے درمیان دیرپا امن کے قیام کے لئے ترکیہ اور قطر کی کوششوں کے کامیابی سے ہم کنار نہ ہونے کے بعد اب ایران کابل اور اسلام آباد کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے روس اور چین کی مدد سے ایک علاقائی اجلاس منعقد کرنے پر کام کر رہا ہے جس کا پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے خیرمقدم کیا ہے۔
یہ موقف ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک "گزشتہ دنوں کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار امن قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے”۔ انہوں نے اعلان کیا کہ تہران ایک "علاقائی اجلاس” کی تیاری پر کام کر رہا ہے جو متعلقہ فریقوں کو اکٹھا کرے گا۔
اس حوالے سےپاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین انداربی نے کہا ہے کہ اسلام آباد "ہمیشہ مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے پُر امن حل کی حمایت کرتا ہے اور ہم ایران جیسے برادر ملک کی ثالثی کی قدر کرتے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے پاس "ٹھوس شواہد” ہیں جو اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ افغان سرزمین کے اندر سے سیکیورٹی خلاف ورزیاں کی جاتی ہیں۔
تاہم افغان طالبان کی جانب سے اب تک کوئی با ضابطہ موقف سامنے نہیں آیا۔ البتہ کچھ اہم طالبان رہنما پہلے ہی پاک افغان مزاکرات کو ناگزیر قرار دے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سےپہلے استنبول میں ہونے والے پاک۔ افغان مزاکرات کے دو دور ناکامی کا شکار ہوئے۔ جن میں ترکیہ اور قطر بطور ثالث شامل تھے۔ یہ مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوئےمگر دوحہ میں با ت چیت کے پہلے دور میں طے پانے والی جنگ بندی کی پاسداری جاری ہے۔
تہران کا ثالث کا کردار ادا کرنے پر اصرار اس کے تزویراتی محرکات سے جڑا ہوا ہے۔ ایران سب سے پہلے اپنی مشرقی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ ایران کو پاکستان اور افغانستان میں سرحدی علاقوں میں مسلح گروہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش ہے۔ خاص طور ان علاقوں میں جہاں بلوچ تنظیم "جیش العدل” فعال ہے۔ ایران کا خیال ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان کوئی بھی کشیدگی ان گروہوں کو پھیلاؤ کا موقع فراہم کرے گی۔












