لندن ( پاک ترک نیوز) برطانیہ کی حکومت نے تارکینِ وطن کے لیے مستقل رہائش کے حصول سے متعلق سخت قوانین میں نرمی کرتے ہوئے سیکڑوں ہزاروں کیئر ورکرز کو طویل انتظار سے استثنیٰ دے دیا ہے۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حکومت نے پیر کے روز اعلان کیا کہ نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے والے افراد کو مستقل رہائش کے لیے 10 سال انتظار کرنے کی نئی شرط سے مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد حکمران جماعت لیبر پارٹی کے اندر پیدا ہونے والی مخالفت اور سیاسی دباؤ کو کم کرنا ہے۔
اس سے پہلے حکومت نے کم ہنر مند غیر ملکی کارکنوں کے لیے مستقل رہائش کا دورانیہ پانچ سال سے بڑھا کر 10 سے 15 سال کرنے کی تجویز دی تھی۔ تاہم نئی ترامیم کے تحت عمومی مدت 10 سال ہوگی، جبکہ بعض مخصوص شعبوں اور زیادہ آمدنی والے افراد کو رعایت دی جائے گی۔حکومت کے مطابق سالانہ کم از کم 50 ہزار 271 پاؤنڈ کمانے والے افراد اور کئی ہنر مند سرکاری ملازمین پانچ سال میں مستقل رہائش حاصل کرسکیں گے، جبکہ ایک لاکھ 25 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ سالانہ آمدنی والے افراد صرف تین سال میں اس کے اہل ہوسکیں گے۔دوسری جانب غیر قانونی طریقے سے کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے پناہ گزینوں کو مزید سخت شرائط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور انہیں مستقل رہائش کے لیے کئی دہائیوں تک انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود کا کہنا ہے کہ جو افراد ملک میں زیادہ خدمات انجام دیں گے، انہیں جلد مستقل رہائش ملے گی، جبکہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو طویل انتظار یا انکار کا سامنا کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کان کھول کر سن لے،شاہراہِ فیصل پر جلسے کی اجازت نہیں ملے گی ،شرجیل میمن
حکومت کے مطابق نئی پالیسی کے باوجود 2021 سے برطانیہ آنے والے تقریباً 14 لاکھ تارکینِ وطن 2030 تک مستقل رہائش کے اہل ہوسکیں گے، تاہم سابقہ اندازوں کے مقابلے میں اہل افراد کی تعداد پانچ لاکھ کم ہوجائے گی۔یہ تبدیلیاں آئندہ سال نافذ ہونے کی توقع ہے اور ان کا اطلاق برطانیہ میں پہلے سے موجود بعض غیر ملکی کارکنوں پر بھی ہوگا۔












