کراچی (پاک ترک نیوز )پاکستان میں مقامی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں اہم پیش رفت سامنے آگئی۔ کے الیکٹرک نے 660 میگاواٹ کے جامشورو کول پاور پراجیکٹ کے یونٹ ون کو مکمل طور پر مقامی تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے کے لیے وفاقی کابینہ سے منظوری لینے کی تجویز دے دی ہے۔
اسلام آباد سے موصولہ اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک نے پاور ڈویژن سے درخواست کی ہے کہ منصوبے کی منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھجوائی جانے والی سمری میں کمپنی کی تجاویز بھی شامل کی جائیں۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طحہ نے تجویز دی ہے کہ کمپنی کو اس منصوبے کا پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ اور بجلی خریدنے والی کمپنی مقرر کیا جائے۔ کمپنی نے منصوبے کی نگرانی اور انتظامی امور کی ذمہ داری بغیر کسی کنسلٹنسی فیس کے انجام دینے کی پیشکش بھی کی ہے۔
کے الیکٹرک نے منصوبے کی تبدیلی کے لیے چینی کمپنی ہاربن الیکٹرک انٹرنیشنل کو ای پی سی کنٹریکٹر مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ کمپنی پہلے بھی جامشورو پاور پراجیکٹ کی تعمیر میں شامل رہی ہے اور اس نے بوائلر کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ کے الیکٹرک کے مطابق نئی کمپنی کو ٹھیکہ دینے سے تکنیکی مسائل، منصوبے میں تاخیر اور معاہدوں کے تنازعات پیدا ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے۔
کمپنی کے مطابق وہ 2023 سے اس منصوبے کی تبدیلی کے لیے کام کر رہی ہے اور قابلِ بینکاری فزیبلٹی اسٹڈی کی مکمل لاگت بھی خود برداشت کر چکی ہے۔
منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی میں تعمیراتی اور تبدیلی کے کاموں کی لاگت 8 کروڑ 62 لاکھ ڈالر جبکہ مجموعی منصوبے کی لاگت 11 کروڑ 66 لاکھ ڈالر لگائی گئی ہے۔
کے الیکٹرک نے یقین دہانی کرائی ہے کہ منصوبے کی مجموعی لاگت 11 کروڑ 66 لاکھ ڈالر سے زیادہ نہیں ہونے دی جائے گی اور مالی معاملات حتمی ہونے کے بعد 18 ماہ کے اندر تبدیلی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔ تاخیر کی صورت میں پیدا ہونے والے اضافی اخراجات برداشت کرنے کی بھی پیشکش کی گئی ہے۔
منصوبے کی مالی معاونت کے لیے کے الیکٹرک نے روایتی پی سی ون طریقہ کار کے بجائے ملکی اور بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں سے سرمایہ حاصل کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے علاوہ اسٹیٹ بینک سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ منصوبے سے متعلق بیرونی ادائیگیوں کے لیے زرمبادلہ کی سہولت فراہم کی جائے۔
تاہم منصوبے پر عمل درآمد کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک، پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی، نیپرا اور دیگر متعلقہ اداروں سے ضروری منظوریوں اور این او سیز کا حصول بھی لازمی ہوگا۔ بجلی کے نئے نرخوں کا تعین بھی نیپرا کرے گا۔
کے الیکٹرک نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ جامشورو پاور کمپنی اور کے الیکٹرک مل کر تھر کے مقامی کوئلے اور درآمدی کوئلے کی طویل المدتی فراہمی کا معاہدہ کریں تاکہ بجلی گھر کو ایندھن کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
ایک اہم تجویز جامشورو پاور کمپنی کے موجودہ پاور پرچیز ایگریمنٹ کو کے الیکٹرک کے نام منتقل کرنے سے متعلق بھی ہے۔ اس کے تحت یونٹ کی کمرشل پیداوار شروع ہونے پر بجلی خریداری کا معاہدہ کے الیکٹرک کے نام منتقل کیا جائے گا۔
منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کراچی تک پہنچانے کے لیے نئی ٹرانسمیشن گرڈ لائن تعمیر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے براہ راست بجلی کی ترسیل یا جنوبی علاقے میں موجود دیگر بجلی گھروں کے ساتھ پاور سواپ کا آپشن بھی زیر غور ہے۔
کے الیکٹرک کا مؤقف ہے کہ جامشورو پاور پلانٹ کو مکمل طور پر مقامی تھر کے کوئلے پر منتقل کرنے سے درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہوگا، ملکی وسائل سے بجلی کی پیداوار بڑھے گی اور پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔









