کراچی(پاک ترک نیوز)سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے واضح کیا ہے کہ شاہراہِ فیصل پر کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایم کیو ایم کان کھول کر سن لے، اب وہ وقت نہیں جب وہ اپنی مرضی کرتی رہی، کسی بھی جماعت کو جلسے کے لیے متعلقہ حکام سے پیشگی اجازت لینا ہوگی۔
نیوز کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ ایم کیو ایم جلسہ کرنا چاہتی ہے تو پہلے باقاعدہ اجازت حاصل کرے اور آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پُرامن سرگرمی انجام دے۔ کسی ایڈونچر سے گریز کیا جائے، ایسی صورتحال پیدا نہ کی جائے جس سے شہر کا امن خراب ہو۔ حکومت کسی سیاسی جماعت کو بلیک میل نہیں ہونے دے گی اور نہ ہی کسی کو اپنا فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کو بارہ مئی جیسے واقعات دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہے، تاہم قانون کی بالادستی اور شہریوں کی سہولت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت کسی کا روزگار متاثر نہیں کرنا چاہتی، تاہم شہر کی سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا۔ شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا اور قانون کی پابندی کرنی ہوگی۔
سینئر وزیر نے بتایا کہ کراچی میں ٹریفک کا نظام بہتر بنانے کے لیے ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی، جبکہ اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی، ون ویلنگ، ون وے کی خلاف ورزی اور غیر قانونی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم لیوی پر حکومت اور جماعت اسلامی کے مذاکرات، مطالبات تسلیم نہ ہونے پر لانگ مارچ کا اعلان
انہوں نے کہا کہ اسلحے کی نمائش کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ سادہ لباس میں اسلحہ دکھانے والے گارڈ اور متعلقہ گاڑی کے مالک دونوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ کچی آبادیوں کے معاملات کے حل کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ گھوٹکی، کندھ کوٹ پل کی تعمیر کا 75 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے مصطفیٰ کمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سانحہ پمز پر استعفیٰ نہیں دیا۔











