لندن (پاک ترک نیوز )برطانیہ کے ٹیکس حکام نے ملک میں ٹیکس ادا کرنے کے پابند 200 سے زائد ارب پتیوں کی نگرانی سخت کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس اقدام کا مقصد دولت مند افراد سے واجب الادا ٹیکس کی وصولی یقینی بنانا اور قومی خزانے میں کم از کم 50 کروڑ پاؤنڈ اضافی جمع کرنا ہے۔برطانوی ٹیکس ادارے ایچ ایم آر سی کے مطابق پہلی مرتبہ ایسے ارب پتی افراد کی فہرست تیار کی گئی ہے جو برطانیہ میں ٹیکس ادا کرنے کے پابند ہیں، چاہے وہ باضابطہ طور پر برطانیہ میں مقیم ہوں یا نہیں۔
نئے منصوبے کے تحت ہر ارب پتی کے معاملات کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ٹیکس افسر مقرر کیا جائے گا، جسے صارف تعمیل مینیجر کہا جاتا ہے۔ یہ افسران ارب پتی افراد کے پیچیدہ مالیاتی اور ٹیکس معاملات کا جائزہ لیں گے اور ان سے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے سے پہلے رضاکارانہ بات چیت کریں گے، تاکہ ٹیکس سے متعلق تمام معاملات واضح کیے جاسکیں۔ٹیکس حکام کے مطابق ارب پتی افراد کے مالی معاملات اکثر مختلف ٹیکس قوانین، کمپنیوں اور متعدد ممالک تک پھیلے ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کی نگرانی مشکل ہوجاتی ہے۔ نئے نظام کے ذریعے ایسے معاملات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور ٹیکس کی ممکنہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔برطانوی ٹیکس ادارہ دولت مند افراد کی نگرانی کے لیے نئی ٹیکنالوجی بھی استعمال کرے گا۔ اس مقصد کے لیے جدید تجزیاتی نظام، خودکار انتباہات اور مصنوعی ذہانت سے مدد لی جائے گی، تاکہ ٹیکس سے متعلق خطرات کی بروقت نشاندہی اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کی تین ایل ڈی اے ہاؤسنگ اسکیموں میں ماہانہ مینٹیننس فیس عائد کرنے کا فیصلہ
حکام کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں کسی بھی سال دو لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ سالانہ آمدن یا 20 لاکھ پاؤنڈ سے زائد اثاثے رکھنے والے افراد کو دولت مند ٹیکس دہندگان کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران دولت مند افراد کی جانب سے واجب الادا ٹیکس کی عدم ادائیگی کا تخمینہ 3 ارب 60 کروڑ پاؤنڈ لگایا گیا، جو برطانیہ میں مجموعی ٹیکس خسارے کا تقریباً 6 فیصد ہے۔
ٹیکس حکام کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات سے 50 کروڑ پاؤنڈ کی اضافی آمدن حاصل ہوگی، جبکہ حکومت نے 2030 تک مجموعی طور پر 10 ارب پاؤنڈ اضافی ٹیکس وصول کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔دوسری جانب ٹیکس امور کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دو لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ سالانہ آمدن یا 20 لاکھ پاؤنڈ سے زائد خالص اثاثے رکھنے والے افراد کو اپنے ٹیکس معاملات اور حکام کو فراہم کردہ مالی معلومات کا جائزہ لینا چاہیے تاکہ کسی بھی قانونی یا مالی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔












