لاہور( پاک ترک نیوز) پنجاب کے پہلی جدید فلم سٹی کا افتتاح 15 دسمبر کو کیا جائے گا، منصوبے کے آغاز کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔پنجاب فلم اتھارٹی کے پہلے اجلاس میں فلم انڈسٹری کی بحالی، جدید فلم سازی کے فروغ اور لاہور کو پاکستان کا فلمی مرکز بنانے کے لیے اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔ اجلاس کی صدارت سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فنکاروں کے لیے پاکستان کے پہلے رائلٹی قانون کا مسودہ تیار کرنے کی منظوری دے دی۔ مجوزہ قانون آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا، جس کا مقصد فنکاروں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
اجلاس میں فلم اور موسیقی کے اسکول، فلم ٹریڈنگ ہاؤس، پوسٹ پروڈکشن مرکز اور جدید ساؤنڈ اسٹیجز پر مشتمل اسٹوڈیو کمپلیکس قائم کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ اس کے علاوہ پنجاب میں پاکستان کا سب سے بڑا کنونشن سینٹر تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔مریم اورنگزیب نے حکام کو ہدایت کی کہ فلم سازوں کی مالی معاونت کے لیے فلم ریبیٹ پالیسی کا فریم ورک آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔ اس پالیسی کا مقصد فلموں کے معیار کو بہتر بنانا اور مقامی فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔فلم سازوں کی سہولت کے لیے ایک آن لائن ون ونڈو پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا جائے گا، جس کے ذریعے وہ فلم بندی کے لیے موزوں مقامات کا انتخاب کر سکیں گے۔فلم سٹی اتھارٹی کے لیے 58 کروڑ 90 لاکھ روپے کا مجوزہ بجٹ منظوری اور جائزے کے لیے محکمہ خزانہ کی کمیٹی کو بھجوا دیا گیا ہے۔ اتھارٹی نے پہلے مرحلے میں 53 خالی آسامیوں میں سے 26 پر بھرتیوں کی بھی منظوری دی ہے۔اجلاس میں پرانے سینما گھروں کی بحالی، وہاں شمسی توانائی کے نظام کی تنصیب اور آن لائن ٹکٹنگ متعارف کرانے کے منصوبوں کی منظوری بھی دی گئی۔ نوجوان فلم سازوں کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے تربیتی پروگرام بھی شروع کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب پر حوثیوں کے ڈرون اور میزائل حملے ناکام
مریم اورنگزیب کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز کا ہدف ہے کہ آئندہ پانچ برس میں پنجاب کو اسکرین ٹورازم کا عالمی مرکز بنایا جائے، تاکہ صوبے کی ثقافت اور تاریخی ورثے کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا جا سکے۔












