نیو یارک ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف سے نیویارک میں بزنس کونسل فار انٹرنیشنل انڈر اسٹینڈنگ اور امریکہ پاکستان بزنس کونسل کے وفود نے ملاقات کی، جس میں پاکستان میں سرمایہ کاری اور مختلف شعبوں میں کاروباری تعاون بڑھانے کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، مالیاتی خدمات، مشروبات، صنعتی پیداوار، ادویات، نامیاتی مصنوعات اور دیگر شعبوں سے وابستہ کاروباری شخصیات شریک تھیں۔
وزیراعظم نے امریکی کاروباری وفود کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں پاکستان کی کاروبار اور سرمایہ کاری دوست پالیسیوں اور مختلف شعبوں کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات سے آگاہ کیا۔شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان امریکہ تعلقات گزشتہ ایک سال کے دوران بہت بہتر ہوئے ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم اور ترقی کی جانب گامزن ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خلیج کا بحران پاکستان کے لیے ایک مشکل مرحلے پر آیا، تاہم پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کررہا ہے۔ دوست اور برادر ممالک کے تعاون سے خطے میں طویل مدتی امن کے حصول کی امید ہے، جبکہ خطے میں پائیدار امن کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے انتہائی اہم ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر ساختی اور پالیسی سطح کی اصلاحات کی جارہی ہیں، جبکہ معیشت کو ڈیجیٹل بنانے، ٹیکنالوجی کے فروغ اور برقی طرزِ حکمرانی کے لیے تیزی سے کام جاری ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے زرعی شعبے میں سرمایہ کاری کی بے پناہ استعداد موجود ہے۔ مصنوعی ذہانت، جدید ٹیکنالوجی اور مشینری کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، اخراجات میں کمی اور کارکردگی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔شہباز شریف نے کان کنی اور معدنیات کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کا اہم شعبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو معدنی وسائل سے بے پناہ نوازا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں اور حکومت انہیں پیشہ ورانہ تربیت اور جدید مہارتیں فراہم کررہی ہے تاکہ نوجوانوں کو ہنر اور روزگار کے مواقع دے کر خودمختار بنایا جاسکے۔ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق اقدامات حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔نجکاری کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ امریکی کاروباری وفود کی دلچسپی کا اہم شعبہ ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری ہوچکی ہے اور نئے پاکستانی مالکان ادارے میں بہتری لائیں گے۔ حکومت بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی بھی نجکاری کرنے جارہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسحاق ڈار کی بحرینی ہم منصب سے ملاقات، دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا کام نجی شعبے کے لیے کاروبار اور سرمایہ کاری میں سہولت فراہم کرنا اور سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور بلال بن ثاقب، اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر رضوان احمد شیخ بھی شریک تھے۔












