نیویارک(پاک ترک نیوز ) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران فوجی طاقت کے دباؤ میں ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم جنگ کے خاتمے اور تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے۔
مسعود پزشکیان نے خطاب کے آغاز میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور میناب میں حملوں کا نشانہ بننے والے اسکول کے بچوں کی تصاویر جنرل اسمبلی میں دکھائیں۔
ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایک ایرانی قصبے پر کلسٹر بم استعمال کیے، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری جاں بحق ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث سیکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بے گھر ہوئے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران دہشت گرد نہیں بلکہ جارحیت کے خلاف اپنا دفاع کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور جوابی کارروائی میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا، عام شہریوں کو نہیں۔
عالمی برادری کے مبینہ دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل قتلِ عام کرتا ہے جبکہ پابندیاں ایران پر عائد کی جاتی ہیں، یہ دوہرا معیار ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران کو دہشت گرد قرار دیا گیا، حالانکہ ایرانی قوم خود دہشت گردی کا نشانہ بنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھمکیوں سے ایرانی قوم خوفزدہ ہونے کے بجائے مزید متحد ہوتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ایرانی صدر نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ کو ایسے ہتھیاروں کی ترسیل کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا جو ایران کے خلاف استعمال کیے جائیں۔
ایرانی صدر کا خطاب شروع ہوتے ہی امریکی مندوب نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔











