نیو یارک ( پاک ترک نیوز )ذرا تصور کریں۔ ایک ایسا جنگی ڈرون جسے اڑانے کے لیے نہ رن وے چاہیے، نہ ایئرپورٹ اور نہ ہی طیارہ بردار بحری جہاز کا بڑا رن وے یہ زمین پر کھڑا ہوگا، دم کے بل سیدھا اوپر اٹھے گا، فضا میں دشمن کا تعاقب کرے گا اور مشن مکمل کرنے کے بعد دوبارہ عمودی انداز میں زمین پر اتر جائے گا!
جی ہاں! امریکا نے مستقبل کی جنگوں کے لیے ایک ایسے ہی جدید جنگی ڈرون کی جھلک دنیا کو دکھا دی ہے۔ امریکی کمپنی شیلڈ اے آئی نے اپنے جدید ایکس بی اے ٹی جنگی ڈرون کے پہلے مکمل سائز کے پروٹوٹائپ کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔یہ کوئی عام ڈرون نہیں بلکہ جیٹ انجن سے چلنے والا خودکار جنگی پلیٹ فارم ہے، جسے عمودی ٹیک آف اور لینڈنگ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔اس کی خاص بات ہے اس کا منفرد انجن، جو دھوئیں کا رخ تبدیل کرکے ڈرون کو فضا میں کنٹرول کرنے میں مدد دے گا۔ اس طرح اسے روایتی رن وے یا لینڈنگ گیئر کی ضرورت نہیں ہوگی۔ لیکن اصل حیرت ابھی باقی ہے ۔ایکس بی اے ٹی صرف نگرانی نہیں کرے گا بلکہ دشمن کے فضائی اور زمینی اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے بھی تیار کیا جا رہا ہے۔اس میں میزائل اور دیگر ہتھیار لے جانے، جدید سینسرز نصب کرنے اور الیکٹرانک وارفیئر کے مشنز انجام دینے کی صلاحیت ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیفن ملر وائٹ ہاؤس کے نئے چیف آف اسٹاف مقرر
کمپنی کا ہائیو مائنڈ سافٹ ویئر اسے خودکار انداز میں مشن مکمل کرنے اور دیگر ڈرونز کے ساتھ رابطے میں کام کرنے کے قابل بنانے کے لیے استعمال ہوگا۔اسے زمین پر موبائل لانچنگ سسٹم کے ذریعے بھی تعینات کیا جا سکے گا، جبکہ مناسب جگہ رکھنے والے بحری جہازوں سے بھی آپریٹ کرنے کا منصوبہ ہے۔ امریکی بحریہ اس منصوبے میں خاص دلچسپی لے رہی ہے۔ شیلڈ اے آئی کو اس پروگرام کے لیے 20 کروڑ ڈالر کی مالی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے، جبکہ کمپنی نے بھی اتنی ہی رقم لگانے کا اعلان کیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا مستقبل کی جنگوں میں بڑے جنگی طیاروں کے ساتھ ایسے خودکار ڈرون بھی میدانِ جنگ کا نقشہ بدل دیں گے؟آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹس میں ضرور بتائیے!












