لاہور( پاک ترک نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے مشترکہ جائیداد کی نیلامی کے خلاف دائر سول نظرثانی درخواست پر فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جائیداد کی نیلامی سے قبل تمام قانونی تقاضے پورے کرنا لازم ہے۔جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی نے سائل غلام محمد کی سول نظرثانی درخواست پر آٹھ صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر قرار دیا گیا ہے۔فیصلے میں قرار دیا گیا کہ پنجاب پارٹیشن آف امویبل پراپرٹی ایکٹ کے تحت کھلی نیلامی سے قبل اندرونی نیلامی کرانا قانونی تقاضا ہے۔ رزرو قیمت کا قانون کے مطابق درست تعین کیے بغیر نیلامی کی توثیق نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں تین روزہ پاکستان انٹرنیشنل آٹو شو 2026 کا باقاعدہ آغاز
عدالت نے قرار دیا کہ صرف سب سے زیادہ بولی دینے والے کا سامنے آنا نیلامی کے طریقہ کار میں موجود قانونی خامیوں کو ختم نہیں کرتا۔ عدالتی نیلامی میں شفافیت اور تمام شریک مالکان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ضروری ہے۔لاہور ہائیکورٹ نے سابقہ پچاس لاکھ روپے کی بولی کے باوجود ساڑھے چھتیس لاکھ روپے میں جائیداد کی نیلامی کی منظوری پر بھی اعتراض اٹھایا۔عدالت نے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کی جانب سے ساڑھے چھتیس لاکھ روپے کی نیلامی کی توثیق کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے متاثرہ فریق کے حصے اور اس کی موجودہ مارکیٹ قیمت کا ازسرنو تعین کرنے کی ہدایت کردی۔فیصلے کے مطابق خریدار کو درخواست گزار کے حصے کی رقم نئی طے شدہ مارکیٹ قیمت کے مطابق ادا کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اگر خریدار مقررہ رقم ادا نہیں کرتا تو درخواست گزار کے حصے کی دوبارہ قانونی نیلامی کی جائے گی۔عدالت نے واضح کیا کہ دیگر شریک مالکان کے حصوں سے متعلق خرید و فروخت اور خریدار کے حاصل کردہ حقوق برقرار رہیں گے، جبکہ جائیداد کی ملکیت اور حصوں سے متعلق جاری کی گئی ابتدائی ڈگری کی قانونی حیثیت بھی برقرار رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ نے سول نظرثانی کی درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے معاملہ ازسرنو فیصلہ سازی کے لیے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔عدالت نے ایگزیکیوٹنگ کورٹ کو تمام کارروائی تین ماہ کے اندر مکمل کرنے کا حکم بھی دیا۔












