اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے خلاف درخواست نمٹا دی۔ چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی سیاسی جماعت یا عوامی عہدہ رکھنے والے شخص کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ یقینی بنائیں کہ سرکاری مشینری کسی سیاسی جماعت کے احتجاج میں استعمال نہ ہو۔عدالتی فیصلے میں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیف کمشنر اسلام آباد اور انسپکٹر جنرلز کو فوری طور پر شکایتی رابطہ مرکز قائم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
فیصلے کے مطابق کوئی بھی سرکاری افسر کسی احتجاج یا ریلی میں شرکت کے لیے زبردستی کرنے والے حکم پر عمل درآمد نہ کرے۔ اگر کسی افسر کو ایسا حکم دیا جائے تو وہ فوری طور پر اپنے صوبے کے چیف سیکرٹری، چیف کمشنر یا انسپکٹر جنرل کو آگاہ کرے۔عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ کوئی سرکاری افسر اپنے ماتحت اہلکاروں کو اسلام آباد کی جانب آنے والے کسی مارچ یا احتجاج میں شامل ہونے کی اجازت نہ دے۔سماعت کے دوران عدالت میں پی ٹی آئی کے دو ہزار بائیس اور دو ہزار چوبیس کے احتجاج کی ویڈیوز بھی چلائی گئیں۔ ویڈیوز میں گرین بیلٹس اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے مناظر کے علاوہ رینجرز اہلکاروں کو گاڑی کے نیچے کچلنے کا واقعہ بھی دکھایا گیا۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی مکمل وسائل کے ساتھ اسلام آباد آنا چاہتی ہے، حکومت کے پاس انہیں روکنے کی صلاحیت نہیں۔ حکومت دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کرسکتی ہے، تاہم اپنے شہریوں پر گولیاں نہیں چلا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد انصاف مانگنے آ رہے ہیں، گولی نہیں چلنی چاہیے، بیرسٹر گوہر
ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس سے پہلے کہ پانی سر سے گزر جائے، پیشگی اقدامات کرنا ہوں گے۔دوسری جانب چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کے بیان حلفی بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دیے گئے ہیں۔












