اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت زرعی شعبے کے فروغ اور زرعی برآمدات میں اضافے کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں زرعی پیداوار بڑھانے، برآمدات کو وسعت دینے اور عالمی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران پاکستان کی زرعی برآمدات پانچ ارب اٹھارہ کروڑ ڈالر رہیں۔ چاول، مچھلی اور سمندری مصنوعات، حلال گوشت، آلو، تل، تمباکو، آم اور مکئی پاکستان کی نمایاں زرعی برآمدات میں شامل ہیں۔
زرعی برآمدات میں مزید اضافے کے لیے مختلف زرعی مصنوعات کی قدر افزائی کے مراحل کو منظم کرنے اور مربوط سلسلے تشکیل دینے کی تجویز دی گئی، تاکہ خام زرعی پیداوار کے بجائے زیادہ قدر والی مصنوعات عالمی منڈیوں میں برآمد کی جا سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ چین، سعودی عرب، ایران اور خلیجی ممالک پاکستان کی زرعی مصنوعات کے لیے اہم برآمدی منڈیاں ہیں، جبکہ نئی عالمی منڈیوں تک رسائی بڑھانے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ملک بھر کے کسانوں اور زرعی اراضی کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنانے کی تجویز بھی اجلاس میں پیش کی گئی، جس کا مقصد زرعی شعبے میں شفافیت، بہتر منصوبہ بندی اور کسانوں تک سہولیات کی رسائی کو مؤثر بنانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا قائداعظم محمد علی جناحؒ کو خراجِ عقیدت
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ زراعت پاکستان کی معیشت کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ زرعی برآمدات کے فروغ کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ اور شراکت داری ضروری ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پاکستانی زرعی مصنوعات کے لیے عالمی منڈیوں میں رسائی بڑھانے اور نئی منڈیاں تلاش کرنے کے لیے مربوط اقدامات کیے جائیں۔وزیراعظم شہباز شریف نے بیرون ملک پاکستانی مشنز میں تعینات تجارتی افسران کو بھی زرعی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی ہدایت کردی۔












