
از: سہیل شہریار
ملک میں موسم برسات کے خاتمے اور شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا ، پنجاب اور سندھ کے متعدد اضلاع میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد اس وقت دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی بلترتیب نچلے اور درمیانے درجے کے سیلاب کی سطح پر بہہ رہا ہے۔جو رواں ہفتے کے دوران معمول پر آ جائے گا۔ان کے علاوہ تمام مقامات پر دریا معمول کی سطح پر بہہ رہے ہیں۔
سیلاب کے بعد آبپاشی کے نظام میں پانی کی مناسب مقدار کو دیکھتے ہوئے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) نےبھی تال حال اپنی تکنیکی اور مشاورتی کمیٹیوں کے اجلاس طلب نہیں کئے ہیں۔ کیونکہ صوبوں نے پانی کے اخراج کے لیے نئے کوٹے مختص کرنے کی درخواست نہیں کی ہے۔
https://www.youtube.com/watch?v=zq2Z1Fe3s2s&t=14s
معمول کے مطابق ربیع کی فصل کے لئے پہلے 10دنوں کی پانی کی ضروریات کے صوبوں کے مطالبات پر ان دونوں کمیٹیوںکا اجلاس ستمبر کے آخری ہفتے میں ہوا کرتا ہے۔سیلاب کا پانی کم ہونے پر ارسا کی تکنیکی اور مشاورتی کمیٹیوں کے اجلاس بلائے جائیں گے۔ ایک اہلکار نے بتایا کہ صوبہ سندھ عام طور پر سب سے پہلے ربیع کی فصلوں کے لیے پانی کی ضرورت کے تخمینے لگاتا ہے۔ مگر اس سال ایسا نہیں ہوا کیونکہ صوبائی حکومت اب بھی سندھ میں سیلاب کی صورتحال سے نمٹ رہی ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق سیلاب اپنی تباہ کاریوں کے ساتھ زمین کے لئے نئی زرخیز مٹی اور ریت بھی لاتا ہے ۔ مگر ریت کی زیادہ مقدار زمین کی بارآوری کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے میدانی علاقوںمیں سیلابی پانی کے کھڑے رہنے کی وجہ سے کھیتوں میں ریت کی مقدار میں اضافے کی اطلاعات مل رہی ہیں – تاہم پانی خشک ہونے سے قبل زرعی زمینوں کی حالت کا اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔
پاکستان کئی سالوں کے بعداس بار آنے والے ربیع کے سیز ن کی شروعات آبی ذخائر میں 13 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف ) سے زیادہ پانی کے ذخیرہ کے ساتھ کرے گا۔ جس سے خریف کے موسم میں سیلاب سے ہونے والے زرعی پیداوار کے نقصانات کو جزوی طور پر پورا کیا جا سکتا ہے۔
آبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میںکئی برسوں بعدآنے والے ربیع کے موسم میں پانی کی صورتحال معمول پرہو گی۔اور اگر کوئی کمی بیشی ہوتی بھی ہے تو وہ قابل برداشت اور قابل انتظام ہو گی۔ جبکہ کئی سالوں کے بعد ہم اگلے خریف کی فصلوں کے لئے بھی پانی کا معقول ذخیرہ دستیاب ہو سکتا ہے۔
ارسا کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ ہفتے کے اختتام پر تربیلا ڈیماپنی پانی ذخیرہ کرنے کی پوری استعداد 1550 فٹ پرتھا۔ منگلا ڈیم میں اتوار کی رات تک پانی کی سطح 1240 فٹ کے قرب تھی ۔جو مجموعی گنجائش سے دو فٹ کم ہے۔ جبکہ چشمہ بیراج پر بھی ذخیرہ شدہ پانی اپنی انتہائی سطح 649فٹ پر ہے۔ اگر ذخیرہ شدہ پانی کی مقدار کودیکھا جائے توتربیلا 5.7ملین ایکڑ فٹ، منگلا 7.1ملین ایکڑ فٹ اور چشمہ میں ساڑھے تین لاکھ ایکڑ فٹ پانی موجود ہے۔چنانچہ اس وقت ملک میںکل ذخیرہ شدہ پانی 13.1ملین ایکڑ فٹ سے تجاوز کر چکا ہے۔ جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی استعداد 13.3ملین ایکڑ فٹ ہے۔
مگر تکلیف دہ امر یہ ہے کہ رواں موسم خریف کے آغاز سے اب تک تقریباً 24ملین ایکڑ فٹ پانی پہلے ہی سمندر میں بہہ چکا ہے ۔ جو دو بڑے آبی ذخائر تربیلا اور منگلا کی مشترکہ ذخیرہ کرنے کی گنجائش سے تقریباً دوگنا ہے۔اور یہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔












