کھٹمنڈو (پاک ترک نیوز )نیپال میں تباہ کن سیلاب نے موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں کو درپیش خطرات کو نمایاں کردیا۔
رپورٹ کے مطابق ہزاروں افراد تاحال لاپتا ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ درجنوں پل سیلابی ریلوں میں بہہ گئے جبکہ سڑکوں کے بڑے حصے تباہ ہونے سے دشوار گزار ہمالیائی علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق خطرہ صرف پگھلتے گلیشیئرز اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے تک محدود نہیں، بلکہ ہمالیہ کی زمین بھی موسمیاتی تبدیلی کے باعث غیر مستحکم ہو رہی ہے۔
یونیورسٹی آف ڈیٹن کے گلیشیئر ماہر اُمیش ہری تاشیا کا کہنا ہے کہ ہمالیہ میں ڈھلوانوں کا عدم استحکام، گلیشیائی جھیلوں اور بڑھتے درجہ حرارت کے باعث پہاڑی آبادیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے پہاڑی سلسلوں میں 55 ہزار سے زائد گلیشیئرز موجود ہیں، اسی وجہ سے اس خطے کو اکثر ’’تیسرا قطب‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ خطہ عالمی اوسط کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے گرم ہو رہا ہے، جس کے باعث گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور بڑی گلیشیائی جھیلیں وجود میں آ رہی ہیں۔
ان جھیلوں کے قدرتی بند کمزور ہوتے ہیں، جبکہ برفانی تودے یا چٹانیں جھیلوں میں گرنے سے اچانک سیلابی ریلا پیدا ہوسکتا ہے، جسے گلیشیائی جھیل کے پھٹنے سے آنے والا سیلاب کہا جاتا ہے۔
ماہرین نے ایک اور خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ ہمالیہ کے وسیع علاقوں میں پرمافراسٹ موجود ہے، یعنی ایسی زمین جس میں نمی اور برف سال بھر جمی رہتی ہے۔
درجہ حرارت بڑھنے سے یہ برف پگھل رہی ہے، جو پہاڑی چٹانوں اور مٹی کو جوڑے رکھنے والے قدرتی ’’گوند‘‘ کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کے پگھلنے سے لینڈ سلائیڈنگ، ملبے کے سیلاب اور برف و چٹانوں کے تودے گرنے کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی ہمالیہ کے قدرتی ماحول کے ساتھ ساتھ وہاں موجود آبادیوں، انفراسٹرکچر اور مستقبل میں انسانی رہائش کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن رہی ہے۔









