کمپالا (پاک ترک نیوز) یوگنڈا نے غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکامی فورس کے لیے تقریباً ایک ہزار 200 فوجی اہلکار بھیجنے کی منظوری دے دی ہے، جبکہ برونڈی بھی مشن میں شامل ہونے پر غور کر رہا ہے۔
یوگنڈا کی پارلیمنٹ نے رواں ماہ غزہ میں فوجی دستے تعینات کرنے کی منظوری دی تھی۔ یوگنڈا کے فوجی حکام اب مشن میں اپنی شمولیت کی تفصیلات اور تیاریوں کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یوگنڈا کے فوجی اہلکاروں کے ساتھ برونڈی کے اعلیٰ فوجی حکام نے بھی حال ہی میں اسرائیل کا دورہ کیا، جہاں غزہ میں ممکنہ فوجی تعیناتی اور مشن کے کردار پر بات چیت کی گئی۔برونڈی کی جانب سے ابھی تک باضابطہ طور پر فوجی دستے بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم حکام کے مطابق برونڈی نے مجوزہ مشن میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا برطانیہ کو غزہ جنگ بندی نگرانی مرکز سے نکالنے پر غور
مجوزہ عالمی فورس میں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار اہلکار شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔ فورس کا مقصد غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی، فلسطینی پولیس کی تربیت، انسانی امداد کی فراہمی کے لیے سکیورٹی اور عبوری انتظامیہ کی معاونت کرنا ہے۔












