اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی وزارتوں اور محکموں کی جانب سے وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد میں غفلت، تاخیر اور مؤثر فالو اَپ نہ ہونے کا سخت نوٹس لے لیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے 41 وفاقی سیکریٹریز اور محکموں کے سربراہان کو اہم ہدایات جاری کردی ہیں، جن میں وزیراعظم کی پالیسی ہدایات پر بروقت اور مکمل عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کی ہدایات پر صرف دفتری کارروائی مکمل کرنا کافی نہیں بلکہ ان کے مقررہ مقاصد کا حصول بھی یقینی بنایا جائے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آفس نے احکامات پر عملدرآمد میں تاخیر، مناسب فالو اَپ اور بین الوزارتی رابطوں کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے مطابق بعض معاملات میں متعلقہ وزارت نے وزیراعظم کی ہدایات پر عملدرآمد کے دوران مطلوبہ سنجیدگی اور احتیاط نہیں برتی۔
وزارتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وزیراعظم کی پالیسی ہدایات کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی نتائج سامنے لائے جائیں۔
وزیراعظم آفس نے وزارتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ مسائل کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کے بجائے مؤثر بین الوزارتی مشاورت کے ذریعے مسائل حل کیے جائیں۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے احکامات کی روح کے مطابق عملدرآمد نہ ہونے کے باعث حکومتی گورننس متاثر ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بیٹل نٹ کی درآمد کے ضوابط کے معاملے میں وزارت اور محکمہ پلانٹ پروٹیکشن کی مبینہ غفلت بھی سامنے آئی ہے۔
بیٹل نٹ کے درآمدی ضوابط میں مبینہ غیر مجاز ترامیم کا انکشاف ہوا، تاہم معاملہ بعد ازاں حل کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق 17 اکتوبر 2025 کو جاری ہونے والا نوٹیفکیشن ستمبر 2025 میں منظور کیے گئے ڈرافٹ سے مختلف تھا۔
انڈونیشیا اور ازبکستان کے ساتھ سرکاری خط و کتابت کے معاملے میں بھی مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے سرکاری افسران کو کارکردگی میں ذمہ داری، پیشہ ورانہ مہارت اور نتائج پر مبنی انداز اپنانے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم نے وزیراعظم ڈلیوری یونٹ کو بھی حکومتی فیصلوں اور وزیراعظم کے احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع کے مطابق مشرف رسول سیان کو وزیراعظم ڈلیوری یونٹ کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے، جو حکومتی احکامات پر عملدرآمد کی نگرانی کریں گے۔
دوسری جانب انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا معاہدہ قبل از وقت ختم کرنے کا معاملہ بھی وزیراعظم کے نوٹس میں آگیا۔
وزیراعظم نے معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے۔
ذرائع کے مطابق موسادک ملک کو انکوائری کمیٹی کا چیئرمین جبکہ سیکریٹری کامرس جواد پال کو رکن مقرر کیا گیا ہے۔
کمیٹی کو انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے سی ای او کے معاہدے کے قبل از وقت خاتمے کی تحقیقات کرکے تین دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔












