اسلام آباد (پاک ترک نیوز) سعودی عرب کے معروف اسعد گروپ نے پاکستان کے ایئرپورٹس کی نجکاری کے عمل میں حصہ لینے میں دلچسپی ظاہر کردی، سعودی گروپ نے ممکنہ بولی کے لیے سعودی اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری پر کام شروع کردیا۔وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اسعد گروپ کے چیف ایگزیکٹو غسان احمد العمودی نے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ اور سرمایہ کاری کے مختلف مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سعودی گروپ کے سربراہ نے بتایا کہ گروپ پاکستان میں اپنے تجربے سے مطمئن ہے اور اسے طویل المدتی سرمایہ کاری کے لیے اہم ملک سمجھتا ہے۔ اسعد گروپ پاکستان میں اپنی موجودگی مزید بڑھانے کا خواہاں ہے۔حکومت پاکستان کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز اور زمین سے متعلق اثاثے آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔حکومت کے مطابق ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا مقصد مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا، ایئرپورٹس کا انفراسٹرکچر اپ گریڈ کرنا، آمدن بڑھانا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے سعودی سرمایہ کاروں کی مسلسل دلچسپی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا نجکاری پروگرام نئے سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیسکو کی نجکاری، نشاط گروپ کے بعد سیفائر فائبرز بھی دوڑ میں شامل
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی ترجیح ایسے مضبوط اور طویل المدتی سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ہے جو پاکستان میں تجارتی طور پر قابلِ عمل منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں۔ملاقات میں وافی انرجی پاکستان کے موجودہ آپریشنز اور توسیعی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کمپنی نے خیبر پختونخوا سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں اپنی سرمایہ کاری اور ریٹیل نیٹ ورک، اسٹوریج انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹلائزیشن کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔اسعد گروپ کے سربراہ نے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کے مواقع، خصوصاً مالیاتی شعبے میں دلچسپی کا اظہار بھی کیا، جبکہ سعودی اور پاکستانی سرمایہ کاروں کے درمیان ممکنہ شراکت داری کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کے معاشی اشاریوں اور خودمختار کریڈٹ پروفائل میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے خطے کی بڑی منڈیوں تک رسائی کے لیے اہم گیٹ وے بناتا ہے۔












