اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) حکومت نے سرکاری خریداری اور ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں میں کرپشن اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے نئے سخت قواعد تجویز کردیے، تاہم سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے براہِ راست ٹھیکے دینے کے معاملے پر حکومت اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔
مجوزہ پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز 2026 کے تحت سرکاری ٹھیکوں کی منظوری اور نگرانی کی ذمہ داری وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ اداروں کے سربراہان پر عائد کی جائے گی۔نئے قواعد کے مطابق ایسے ٹھیکیدار، مالکان، بینیفیشل اونرز اور ڈائریکٹرز سرکاری ٹینڈرز میں حصہ نہیں لے سکیں گے جن کے خلاف ایسے مقدمات زیرِ سماعت ہوں جن میں دیوالیہ ہونے یا سزا کا امکان ہو، جبکہ ماضی میں سزا یافتہ افراد کی اہلیت بھی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان اصل اختلاف سرکاری اداروں کو براہِ راست ٹھیکے دینے کے معاملے پر ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ سرکاری اداروں کو بغیر مسابقتی بولی کے ٹھیکے صرف غیر معمولی حالات میں دیے جائیں اور ان حالات کی وجوہات بھی عوام کے سامنے لائی جائیں۔آئی ایم ایف نے تجویز دی ہے کہ ایسے تمام براہِ راست معاہدے ای پاکستان ایکوزیشن اینڈ ڈسپوزل سسٹم کے ذریعے کیے جائیں اور سرکاری ادارہ کام زیادہ تر اپنے وسائل سے مکمل کرے۔ مخصوص صورت میں ذیلی ٹھیکہ دیا جاسکے گا، تاہم اس کی حد مجموعی کام کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔حکومت نے 40 فیصد کی حد تسلیم کرلی ہے، تاہم مجوزہ قواعد میں یہ گنجائش رکھی گئی ہے کہ متعلقہ اتھارٹی وقتاً فوقتاً اس مالی حد میں تبدیلی کرسکے گی۔ آئی ایم ایف کو اسی شق پر تحفظات ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ سرکاری ادارے بغیر بولی کے ٹھیکہ حاصل کرکے بعد میں بڑا حصہ نجی کمپنیوں کو منتقل کرسکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 24گھنٹے کا دن چھوٹا ہو گیا، زمین آخر اتنی تیزی سے کیوں گھوم رہی ہے؟
آئی ایم ایف نے یہ بھی تجویز کیا ہے کہ براہِ راست ٹھیکہ صرف غیر معمولی حالات میں دیا جائے اور متعلقہ ادارے کا سربراہ ان حالات کی تحریری وجوہات اور قواعد پر عمل درآمد کی یقین دہانی ای پی اے ڈی ایس پر جمع کرائے، جسے عوام کے لیے بھی دستیاب ہونا چاہیے۔حکومت کے مجوزہ مسودے میں ای پی اے ڈی ایس پر یقین دہانی جمع کرانے کی بات تو شامل ہے، تاہم غیر معمولی حالات کے تعین کو عوام کے سامنے ظاہر کرنے کی شرط شامل نہیں کی گئی۔دوسری جانب پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق 2004 کے موجودہ قواعد پرانے ہوچکے ہیں، اس لیے نئے قواعد میں کرپشن اور جعلی معلومات فراہم کرنے جیسے اقدامات کے خلاف سخت کارروائی کی تجویز دی گئی ہے۔
مجوزہ قواعد کے تحت کرپشن اور فراڈ میں ملوث بولی دہندگان کو 10 سال تک بلیک لسٹ کیا جاسکے گا، جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے پر پانچ سال تک بلیک لسٹ کرنے کی تجویز ہے۔نئے قواعد کے مطابق 7 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی تمام سرکاری خریداری مسابقتی بولی کے ذریعے کرنا لازمی ہوگی۔ 50 کروڑ سے 2 ارب روپے تک کے ٹینڈرز کے لیے تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کمیٹی جبکہ 2 ارب روپے سے زائد بولیوں کے لیے بیرونی جائزہ کمیٹی قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔












