واشنگٹن (پاک ترک نیوز) ناسا کی نئی اور انتہائی طاقتور نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ خلا میں روانگی سے قبل اہم مرحلہ کامیابی سے مکمل کرکے لانچ کی تیاریوں کے آخری مرحلے میں داخل ہوگئی۔
ناسا، رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ٹیم اور اسپیس ایکس کے ماہرین نے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں فلائٹ ریڈینس ریویو مکمل کیا، جس میں خلائی دوربین، راکٹ، لانچ سائٹ اور مشن کی مجموعی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔جائزے کے بعد مشن مینیجرز نے رومن ٹیلی اسکوپ کو لانچ سے قبل باقی ماندہ تیاریوں کے لیے کلیئر کردیا۔ناسا اور اسپیس ایکس کے مطابق رومن ٹیلی اسکوپ کو 30 اگست کو صبح 7 بج کر 26 منٹ کے بعد لانچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
یہ خلائی دوربین اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے کینیڈی اسپیس سینٹر کے لانچ کمپلیکس 39 اے سے خلا میں روانہ کی جائے گی۔ فالکن ہیوی اسپیس ایکس کے طاقتور ترین راکٹوں میں شامل ہے، جس میں تین منسلک راکٹ بوسٹرز استعمال ہوتے ہیں۔لانچ سے قبل رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو اسپیس ایکس کے ہینگر منتقل کیا جائے گا۔ دوربین پہلے ہی راکٹ کے حفاظتی کور میں محفوظ کی جاچکی ہے، جو لانچ کے دوران اسے فضا کے دباؤ اور دیگر اثرات سے محفوظ رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 24 اگست 2006: پلوٹو سیارے کا درجہ کھو بیٹھا، دنیا بھر میں بحث چھڑ گئی
اس کے بعد تکنیکی ماہرین دوربین کو راکٹ سے منسلک کریں گے اور فالکن ہیوی کو آخری تیاریوں کے لیے لانچ پیڈ تک منتقل کیا جائے گا۔ نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ ناسا کی جدید ترین خلائی دوربینوں میں سے ایک ہے، جسے کائنات کے وسیع حصوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
سائنسدان رومن ٹیلی اسکوپ کی مدد سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کائنات وقت کے ساتھ کیسے تبدیل ہوئی، اس کے پھیلاؤ کی رفتار کے پیچھے کیا عوامل کارفرما ہیں اور ہماری کہکشاں سے باہر موجود سیاروی نظام کیسے تشکیل پاتے ہیں۔











