واشنگٹن(پاک ترک نیوز) امریکہ کی سابق خاتون اول اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسرائیلی وزیراعظم پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کے ذہن میں اس بات پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ نیتن یاہو نے سب سے پہلے اور سب سے بڑھ کر اسرائیل کو، اور دوسرے نمبر پر لوگوں کے ذہنوں میں بننے والی اس کی تصویر کو، شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اور یہ نقصان صرف امریکہ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہوا ہے۔
ہیلری کلنٹن نے ریاست نیویارک کے شہر ایسٹ ہیمپٹن میں گلڈ ہال میں کونسل آن فارن ریلیشنز کے صدر مائیکل فروہمن کے ساتھ ایک طویل گفتگو کے دوران کہا کہ اس نقصان کی اصلاح ضروری ہے اور اسرائیل کی سلامتی اور اس کے مطلوبہ مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے بہت زیادہ کام کرنا ہوگا۔
کلنٹن نے بتایا کہ وہ ایسے اسرائیلیوں اور امریکیوں کو جانتی ہیں جن کے خاندان اسرائیل میں ہیں۔ ان کے مطابق بعض نوجوان اب یہ کہنے لگے ہیں۔اگر نیتن یاہو تبدیل نہیں ہوا تو ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف امریکہ تک محدود نہیں بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ نیتن یاہو نے ریاست اسرائیل کو کمزور کرنے میں کیا کردار ادا کیا ہے۔کلنٹن نے واضح کیا کہ ان کا مؤقف اسرائیل کی حمایت ترک کرنے پر مبنی نہیں بلکہ اسرائیل اور اس کی موجودہ حکومت و پالیسیوں میں فرق کرنے پر مبنی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کسانوں کے لیے اچھی خبر ، پہلی دوہری موڈ آف ایکشن والی جڑی بوٹی مار دوا تیار
ہیلری کلنٹن نے اسرائیل کے بارے میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے خصوصاً نوجوان ووٹرز میں اسرائیل کی حمایت میں کمی اور اس بارے میں کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔کے موضوعات پر توجہ مرکوز رکھی۔انہوں نے کہا کہ یہ جائزہ آج کی صورتحال کی درست عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ تبدیلی بڑی حد تک نسلی اور عمری فرق کی وجہ سے ہے اور نوجوانوں میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت سے شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔کلنٹن نے اسرائیل اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان فرق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ درست جواب یہ ہے کہ ہم نیتن یاہو کی حکومت کے بہت سے فیصلوں کے خلاف ہیں۔ لیکن ہم اسرائیل کے ساتھ ہیں۔
انہوں نے اپنی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میں ٹرمپ انتظامیہ کے بہت سے فیصلوں کے خلاف ہوں۔ لیکن میں امریکہ کے ساتھ ہوں۔کلنٹن نے خبردار کیا کہ مسئلے کو صرف حق یا مخالفت کی دوئی میں محدود کرنا درست نہیں، کیونکہ موجودہ سیاسی تقسیم ریاست، حکومت اور اس کی پالیسیوں کے درمیان فرق کرنے کی گنجائش کم کر رہی ہے۔












