بیجنگ ( پاک ترک نیوز) کوانٹم ٹیکنالوجی کے میدان میں چین نے ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرلیا ہے، جہاں سائنسدانوں نے آپٹیکل فائبر کے ذریعے 420 کلومیٹر فاصلے پر موجود دو کوانٹم میموری کو کامیابی سے باہم منسلک کرلیا ہے۔
ماہرین اسے مستقبل کے کوانٹم انٹرنیٹ کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔چین کی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ سائنسدانوں نے 420 کلومیٹر طویل آپٹیکل فائبر کے ذریعے دو کوانٹم میموری کے درمیان کوانٹم الجھاؤ قائم کیا۔
یہ فاصلہ سابقہ ریکارڈ سے چار گنا زیادہ ہے، جس سے طویل فاصلے تک کوانٹم معلومات کی ترسیل کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں۔
کوانٹم ٹیکنالوجی میں دو ذرات کو اس انداز میں منسلک کیا جاتا ہے کہ ان کے درمیان بہت زیادہ فاصلے کے باوجود ان کی کوانٹم حالت ایک دوسرے سے مربوط رہتی ہے۔سائنسدانوں کا مقصد اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے مستقبل میں ایک ایسا کوانٹم انٹرنیٹ تیار کرنا ہے جو انتہائی محفوظ مواصلات اور طاقتور کمپیوٹنگ کی بنیاد بن سکے۔تاہم طویل فاصلے تک کوانٹم معلومات کی ترسیل آسان نہیں۔ آپٹیکل فائبر میں سفر کے دوران روشنی کے ذرات کا کچھ حصہ جذب ہوجاتا ہے اور فاصلے میں اضافے کے ساتھ سگنل کے برقرار رہنے کے امکانات تیزی سے کم ہوتے جاتے ہیں۔
چینی ٹیم نے اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے انتہائی کم درجہ حرارت پر ٹھنڈے کیے گئے ایٹمز کے بادل استعمال کیے۔ ان ایٹمی بادلوں سے ایسے فوٹون خارج کیے گئے جو ان کی کوانٹم حالت سے متعلق معلومات رکھتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں ذیابیطس کے لیے ’اسمارٹ‘ پروبایوٹک تیار
ایک فوٹون کو طویل فاصلے تک آپٹیکل فائبر کے ذریعے منتقل کیا گیا اور دوسرے فوٹون کے ساتھ اس کا موازنہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دونوں کوانٹم میموری کے درمیان الجھاؤ کی تصدیق ہوئی۔سائنسدانوں نے سگنل کے نقصان کو کم کرنے کے لیے فوٹونز کو ٹیلی کمیونیکیشن میں استعمال ہونے والی طولِ موج میں تبدیل کیا، جبکہ درجہ حرارت میں معمولی تبدیلیوں اور فائبر کے ارتعاش سے پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے خصوصی نظام بھی تیار کیا۔












