بیجنگ ( پاک ترک نیوز) چین نے نایاب ارضی دھاتوں کی جانچ کی اہم ٹیکنالوجی میں نمایاں پیشرفت حاصل کرلی ہے، جس سے اعلیٰ معیار کی نایاب ارضی دھاتوں میں موجود معمولی نجاستوں کی زیادہ درست اور تیز رفتار پیمائش ممکن ہوگئی ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی نیوز کے مطابق چین نے انڈکٹولی کپلڈ پلازما ٹینڈم ماس اسپیکٹرو میٹری طریقہ کار تیار کیا ہے، جس کے ذریعے اعلیٰ خالص نایاب ارضی دھاتوں میں نجاست کی مقدار براہ راست معلوم کی جاسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق نئی ٹیکنالوجی نے روایتی طریقوں کی خامیوں پر قابو پالیا ہے، جن میں پہلے سے دھاتی اجزا کو الگ کرنے کی ضرورت اور زیادہ حدِ تشخیص شامل تھی۔ نئی ٹیکنالوجی زیادہ حساسیت، درستگی اور تیز رفتار جانچ کی صلاحیت رکھتی ہے۔
چینی حکام کے مطابق نئی ٹیکنالوجی کو نایاب ارضی دھاتیں تیار کرنے والے ادارے اور ٹیسٹنگ مراکز بڑے پیمانے پر استعمال کررہے ہیں، جس سے مصنوعات کا معیار اور خالص پن بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین میں دنیا کا بلند ترین سولر تھرمل پاور پلانٹ، 15 ہزار 927 آئینے نصب
رپورٹ کے مطابق نئی ٹیکنالوجی سے ٹیسٹنگ اداروں کی کارکردگی اور درستگی میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے مارکیٹ نگرانی کے لیے زیادہ قابلِ اعتماد معلومات دستیاب ہورہی ہیں۔چین کی جیانگ شی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں قائم نایاب ارضی مصنوعات کی جانچ اور ٹریس ایبلٹی کی لیبارٹری نے یہ اہم پیشرفت حاصل کی ہے۔ تحقیقی ٹیم نے نمونوں کی ابتدائی تیاری اور آلات کی درستگی جانچنے سمیت دیگر شعبوں میں بھی نئی تکنیکیں تیار کی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق چین نے جولائی 2026 میں 4 ہزار 223.5 ٹن نایاب ارضی دھاتیں برآمد کیں، جبکہ رواں سال کے پہلے 7 ماہ میں مجموعی برآمدات 34 ہزار 706.3 ٹن رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10 فیصد کم ہیں۔چین نے جولائی میں 9 ہزار 451.3 ٹن نایاب ارضی دھاتیں درآمد کیں، جبکہ پہلے 7 ماہ میں مجموعی درآمدات 63 ہزار 323 ٹن رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 5.5 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔












