واشنگٹن (پاک ترک نیوز )امریکی طیارہ ساز کمپنی بوئنگ کو جولائی 2026 میں ایئربس کے مقابلے میں ایک اور جھٹکا۔۔۔ماہانہ طیاروں کی فراہمی میں بوئنگ کی رفتار کم ہوگئی، جبکہ ایئربس نے ایک بار پھر سبقت حاصل کرلی۔
بوئنگ نے جولائی میں 53 مسافر طیارے صارفین کے حوالے کیے، جو جون کے 64 طیاروں کے مقابلے میں 11 کم اور تقریباً 17 فیصد کمی ہے۔
دوسری جانب ایئربس نے جولائی میں 67 طیارے فراہم کیے۔۔۔ یوں ایئربس نے بوئنگ سے 14 طیارے زیادہ ڈیلیور کیے۔
بوئنگ کے جولائی کے 53 طیاروں میں 39 بوئنگ 737 میکس، 10 ڈریم لائنر 787، ایک 777 مال بردار طیارہ اور تین 767 طیارے شامل ہیں۔
رواں سال کے پہلے سات ماہ میں بوئنگ مجموعی طور پر 367 طیارے صارفین کے حوالے کرچکی ہے، جن میں 279 طیارے 737 میکس اور 50 ڈریم لائنر شامل ہیں۔
تاہم بوئنگ کے لیے تصویر کا دوسرا رخ نسبتاً بہتر ہے۔۔۔ جولائی میں کمپنی کو 38 نئے آرڈرز ملے، جبکہ 8 آرڈرز منسوخ ہوئے، جس کے بعد کمپنی کے خالص نئے آرڈرز کی تعداد 30 رہی۔
جولائی کے آرڈرز میں 18 بوئنگ 737 میکس اور 19 ڈریم لائنر 787 شامل ہیں۔
فارن بورو ایئر شو کے دوران آئرلینڈ کی طیارہ لیزنگ کمپنی ایس ایم بی سی ایوی ایشن کیپیٹل نے بوئنگ 737 میکس کے 100 طیاروں کا آرڈر بھی دیا، تاہم یہ آرڈر پہلے ہی جون میں بوئنگ کے ریکارڈ میں شامل ہوچکا تھا۔
رپورٹ کے مطابق بوئنگ کو 737 میکس کے سب سے بڑے ماڈل 737-10 کے اب تک 130 سے زائد آرڈرز بھی مل چکے ہیں۔
یعنی۔۔۔ بوئنگ کی طیاروں کی ترسیل میں جولائی کے دوران کمی ضرور آئی، مگر آرڈرز کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
دوسری جانب ایئربس کی زیادہ ترسیل نے عالمی کمرشل طیارہ سازی کی دوڑ میں ایک بار پھر بوئنگ پر برتری واضح کردی ہے۔








