مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے فاطمہ زہرا المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم مقرر کردیا، جس کے ساتھ ہی مراکش کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل رقم ہوگیا۔
پچاس سالہ فاطمہ زہرا المنصوری وکیل اور سیاست دان ہیں اور وہ مراکش کی میئر بھی رہ چکی ہیں، جبکہ حال ہی میں وہ شہری منصوبہ بندی، رہائش اور شہری پالیسی کی وزیر کی ذمہ داریاں نبھا رہی تھیں۔
فاطمہ زہرا المنصوری کا تعلق مراکش کی صداقت و جدیدیت جماعت سے ہے، جس نے 23 ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ 395 میں سے 97 نشستیں حاصل کیں۔ تاہم حکومت بنانے کے لیے جماعت کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا۔
وزیراعظم مقرر کیے جانے کے بعد اپنے پہلے خطاب میں فاطمہ زہرا المنصوری نے اس تقرری کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف ان کے لیے نہیں بلکہ مراکش کی تمام خواتین کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔
مراکش کے آئین کے تحت بادشاہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے حکومت کا سربراہ مقرر کرتا ہے۔ فاطمہ زہرا المنصوری کو اب نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
ان کی حکومت کو بے روزگاری، عوامی خدمات اور معاشی مواقع سمیت اہم چیلنجز کا سامنا ہوگا، جبکہ مراکش 2030 کے عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کی تیاریوں میں بھی مصروف ہے۔
فاطمہ زہرا المنصوری عرب دنیا میں حکومت کی سربراہی کرنے والی دوسری خاتون وزیراعظم بھی بن گئی ہیں، اس سے قبل تیونس کی نجلا بودن یہ منصب سنبھال چکی ہیں۔








