لاہور( پاک ترک نیوز) تقریباً چھ دہائیوں سے دنیا کے آسمانوں پر راج کرنے والے بوئنگ 737 اور چار دہائیوں سے فضائی سفر کی پہچان بنے ایئربس اے 320 اب اپنے سفر کے آخری مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دنیا کی دو بڑی طیارہ ساز کمپنیاں اب ایسے جدید ترین مسافر بردار طیارے تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہو چکی ہیں جو زیادہ محفوظ، کم ایندھن خرچ کرنے والے، ماحول دوست اور طویل فاصلے تک پرواز کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی عالمی فضائی صنعت میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
بوئنگ 737 اور ایئربس اے 320 اس وقت دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے سنگل آئل مسافر بردار طیارے ہیں۔ دنیا بھر کی سینکڑوں فضائی کمپنیاں مختصر اور درمیانی فاصلے کی پروازوں کے لیے انہی طیاروں پر انحصار کرتی ہیں۔
بوئنگ 737 پہلی بار تقریباً ساٹھ برس قبل سروس میں آیا، جبکہ ایئربس اے 320 کو متعارف ہوئے تقریباً چالیس سال ہو چکے ہیں۔ جدید انجنوں اور مسلسل بہتری کے باوجود دونوں طیاروں کی بنیادی ساخت کئی دہائیوں پرانی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹریٹولانچ کے تیز رفتار طیارے کی10 سے زائد ہائپر سونک پروازیں مکمل
اس وقت بوئنگ 737 میکس اور ایئربس اے 320 نیو اپنی اپنی کمپنیوں کے جدید ترین ماڈلز ہیں۔
737 میکس کے چار بڑے ماڈلز، میکس 7، میکس 8، میکس 9 اور میکس 10 تیار کیے جا رہے ہیں، جبکہ اے 320 نیو خاندان میں اے 319 نیو، اے 320 نیو، اے 321 نیو اور طویل فاصلے تک پرواز کرنے والے اے 321 ایل آر اور اے 321 ایکس ایل آر شامل ہیں۔
یہ تمام طیارے پہلے کے مقابلے میں کم ایندھن خرچ کرتے ہیں اور بعض ماڈلز بحرِ اوقیانوس بھی عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تاہم عالمی فضائی صنعت میں اب مقابلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ایئربس کا اے 321 نیو غیر معمولی کامیابی حاصل کر چکا ہے اور اسے اب تک سات ہزار سات سو سے زائد آرڈرز مل چکے ہیں، جبکہ پورے اے 320 نیو خاندان کے آرڈرز بارہ ہزار سے تجاوز کر گئے ہیں۔
اس کے مقابلے میں بوئنگ 737 میکس خاندان کو تقریباً سات ہزار دو سو آرڈرز ملے ہیں، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں ایئربس کو واضح برتری حاصل ہو گئی ہے۔
اسی دباؤ کے پیش نظر بوئنگ نے نئی نسل کے ایک مکمل نئے طیارے پر کام تیز کر دیا ہے، جسے فی الحال نیو سنگل آئل یا این ایس اے کا نام دیا گیا ہے۔
یہ طیارہ موجودہ 737 میکس کی بجائے تاریخی بوئنگ 757 کے سائز کے قریب ہوگا تاکہ زیادہ مسافروں کو کم لاگت میں سفر کی سہولت دی جا سکے۔
رپورٹس کے مطابق اس میں نئی نسل کے طاقتور ٹربوفین انجن، لمبے اور باریک پروں کا جدید ڈیزائن، فولڈ ہونے والے ونگ ٹپس، کم ایندھن خرچ کرنے والی ٹیکنالوجی اور ماحول دوست نظام نصب کیے جائیں گے۔
دوسری جانب ایئربس بھی اپنے اگلی نسل کے سنگل آئل طیارے پر خاموشی سے کام کر رہا ہے۔
اگرچہ کمپنی نے منصوبے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایئربس بھی ایسا طیارہ متعارف کرانا چاہتا ہے جو کم کاربن اخراج، کم شور، زیادہ رینج اور جدید ترین ڈیجیٹل کاک پٹ جیسی خصوصیات سے لیس ہوگا۔
فضائی صنعت کے ماہرین کے مطابق نئے طیاروں کی تیاری صرف ایک تجارتی مقابلہ نہیں بلکہ مستقبل کی ضروریات بھی ہے۔
دنیا بھر میں ماحولیاتی قوانین سخت ہوتے جا رہے ہیں، ایندھن کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جبکہ فضائی سفر کرنے والوں کی تعداد بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ایسے میں فضائی کمپنیاں ایسے طیارے چاہتی ہیں جو کم لاگت میں زیادہ فاصلے طے کریں، کم کاربن خارج کریں اور دیکھ بھال کے اخراجات بھی کم ہوں۔
بوئنگ اور ایئربس کی نئی نسل کے یہ طیارے 2030 کی دہائی کے آخر میں متعارف ہونے کی توقع ہے۔












