بیجنگ (پاک ترک نیوز )چین نے ہائپر سونک ہتھیاروں کی رہنمائی کے لیے جدید ٹیکنالوجی تیار کرلی، اب جی پی ایس یا دیگر سیٹلائٹ نظام ناکام ہونے یا جام ہونے کی صورت میں ہتھیار ستاروں کی مدد سے اپنی سمت اور مقام کا تعین کرسکیں گے۔
گوانگ ڈونگ ایرو اسپیس ریسرچ اکیڈمی کی زیر قیادت منصوبے نے ماہرین کا حتمی جائزہ بھی کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تحقیق کا مقصد ایسی ستارہ جاتی رہنمائی کا نظام تیار کرنا تھا جو آواز کی رفتار سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار پر پرواز کرنے والے ہائپر سونک ہتھیاروں میں کام کرسکے۔
ماہرین کے مطابق ہائپر سونک پرواز کے دوران ہوا سے شدید رگڑ کے باعث طیارے یا میزائل کے گرد انتہائی گرم پلازما کی تہہ بن جاتی ہے، جو ستاروں کی روشنی کو متاثر کرتی ہے اور سینسرز کے لیے ستاروں کی شناخت مشکل بنا دیتی ہے۔
چینی محققین نے گرم ہوا کی حرارتی و کیمیائی شعاعوں اور دیگر تابکاری کی مداخلت پر مبنی ڈیٹا بیس تیار کیے، جبکہ اس اثرات کی پیش گوئی کے لیے جدید سمیولیشن سافٹ ویئر بھی تیار کیا۔
رپورٹ کے مطابق محققین نے تابکاری کی مداخلت برداشت کرنے والا ایک جدید اسٹار سینسر بھی تیار کیا۔ تجربات میں مداخلت نہ ہونے کی صورت میں ستاروں کے پیٹرن کی شناخت کی شرح 99 فیصد سے زائد رہی۔
شدید فضائی تابکاری کی مداخلت کے باوجود شناخت کی شرح 80 فیصد سے زیادہ رہی، جبکہ سمت اور زاویے کی پیمائش کی درستگی 5 آرک سیکنڈ سے بہتر ریکارڈ کی گئی۔
ماہرین کے مطابق ستاروں سے رہنمائی کا نظام بیرونی برقی مقناطیسی مداخلت سے محفوظ رہتا ہے، اس لیے اسے جی پی ایس اور اندرونی رہنمائی کے نظام کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی صرف ہائپر سونک ہتھیاروں تک محدود نہیں، بلکہ ہوابازی، انجن ٹیسٹنگ، صنعتی بوائلرز اور دیگر جدید شعبوں میں بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔






