کراچی ( پاک ترک نیوز) کراچی کے نوجوان میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ صوبائی حکومت آج چیف جسٹس سندھ کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے خط ارسال کرے گی۔ دوسری جانب کیس کی تحقیقات کے لیے قائم نئی پانچ رکنی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی کل طلب کرلیا گیا ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کے مطابق حکومت میر رضا قتل کیس کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتی ہے اور معاملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لیے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم ڈی آئی جی عامر فاروقی کی سربراہی میں کام کرے گی، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ حقائق مکمل طور پر سامنے آئیں اور کسی بھی قسم کا ابہام باقی نہ رہے۔
وزیر داخلہ سندھ کے مطابق میر رضا کیس سے متعلق دو میڈیکل رپورٹس کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایک فیصد بھی شک موجود ہو تو تحقیقات سو فیصد ہونی چاہئیں۔
ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ ابتدائی کرائم سین کو مطلوبہ انداز میں محفوظ نہیں کیا گیا، اسی لیے کیس کے مختلف پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مقتول کے والدین سے اپیل کی کہ وہ تحقیقات پر اعتماد رکھیں، حکومت غیرجانبدار رہتے ہوئے تمام حقائق سامنے لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری جانب آئی جی سندھ کی ہدایت پر پہلے سے قائم تحقیقاتی کمیٹی ختم کرکے نئی پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئی کمیٹی کا پہلا اجلاس کل ڈی آئی جی کرائم برانچ کے دفتر میں طلب کیا گیا ہے، تمام ارکان کو دوپہر 12 بجے اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق میر رضا کی دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آنے کے بعد نئی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی۔
کمیٹی کے پہلے اجلاس میں کیس سے متعلق اب تک ہونے والی تحقیقات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ میر رضا کی موت کے مختلف پہلوؤں سمیت دستیاب شواہد اور دونوں پوسٹ مارٹم رپورٹس کا بھی جائزہ لیے جانے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میر رضا کیس میں نئے سوالات، ورثا کا شفاف تحقیقات کا مطالبہ
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ کیس کی تحقیقات میں کسی فریق کو رعایت نہیں دی جائے گی اور تمام شواہد کی روشنی میں حقائق تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بعد معاملے کی مزید تحقیقات کس سمت میں جاتی ہیں، اس کا فیصلہ کمیشن کی تشکیل اور اس کے دائرہ کار کے بعد ہوگا۔












