لاہور( پاک ترک نیوز) کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم ہر لمحہ ایک ایسے سیارے پر موجود ہیں جو نہ صرف اپنی جگہ پر مسلسل گھوم رہا ہے بلکہ سورج کے گرد بھی انتہائی تیز رفتار سے سفر کر رہا ہے؟ پھر آخر ہمیں نہ کوئی جھٹکا محسوس ہوتا ہے اور نہ ہی چکر آتے ہیں۔ اس دلچسپ ویڈیو میں جانتے ہیں اس حیرت انگیز سائنسی راز کو۔
زمین اپنے محور کے گرد تقریباً چوبیس گھنٹوں میں ایک چکر مکمل کرتی ہے، جبکہ خطِ استوا پر اس کی رفتار تقریباً ایک ہزار چھ سو ستر کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ بظاہر یہ رفتار ناقابلِ یقین محسوس ہوتی ہے، لیکن انسان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ زمین پر موجود ہر چیز، خواہ وہ انسان ہو، عمارتیں ہوں، درخت ہوں یا فضا، سب ایک ہی رفتار سے زمین کے ساتھ حرکت کر رہے ہیں۔ چونکہ ہر چیز ایک ساتھ سفر کر رہی ہے، اس لیے ہمیں اپنی حرکت کا کوئی الگ حوالہ نہیں ملتا۔
دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ مسلسل رفتار کے بجائے رفتار میں اچانک تبدیلی کو محسوس کرتا ہے۔ جیسے گاڑی اچانک رکے، تیزی سے مڑے یا ہوائی جہاز پرواز بھرے تو جسم کو جھٹکا محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر رفتار ایک جیسی رہے تو انسان اسے محسوس نہیں کرتا۔
اس کے علاوہ زمین کی طاقتور کششِ ثقل ہمیں اپنی سطح سے مضبوطی سے جوڑے رکھتی ہے۔ اگر یہ کشش موجود نہ ہوتی تو گردش سے پیدا ہونے والی قوت ہمیں باہر کی جانب دھکیل سکتی تھی، مگر کششِ ثقل اس اثر کو آسانی سے قابو میں رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پتنگ باز ہو جائیں تیار ،جنوری میں بسنت منانے کا فیصلہ
دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ زمین صرف اپنی گردش تک محدود نہیں بلکہ سورج کے گرد بھی تقریباً ایک لاکھ سات ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہی ہے، جبکہ ہمارا پورا نظامِ شمسی بھی کہکشاں میں مسلسل حرکت کر رہا ہے۔ اس کے باوجود ہمیں کوئی غیر معمولی احساس نہیں ہوتا۔
سائنس دانوں کے مطابق یہی فطرت کا ایک حیرت انگیز نظام ہے، جہاں ہماری روزمرہ زندگی معمول کے مطابق چلتی رہتی ہے، حالانکہ حقیقت میں ہم ہر لمحہ خلا میں انتہائی تیز رفتار سفر کر رہے ہوتے ہیں۔











