اسلام آباد(پاک ترک نیوز ) وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹروے پولیس سے کرپشن کے خاتمے کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دے دی۔
وفاقی وزیر نے آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس میں ہدایت کی کہ رشوت یا کسی بھی قسم کی بدعنوانی میں ملوث افسران و اہلکاروں کو محکمہ سے نکالا جائے اور ان کے خلاف فوجداری مقدمات بھی درج کیے جائیں۔
عبدالعلیم خان نے آئی جی موٹرویز کو ہدایت کی کہ کرپشن میں ملوث کوئی اہلکار سروس میں باقی نہیں رہنا چاہیے۔
وفاقی وزیر نے بدعنوان اہلکاروں کو ’’کالی بھیڑیں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کو نظام سے نکال دیا جائے گا۔
اجلاس میں وفاقی وزیر نے ایکسل لوڈ پالیسی پر فوری عملدرآمد کا بھی اعلان کیا اور واضح کیا کہ اوورلوڈ گاڑیوں کو موٹرویز پر سفر کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے ایکسل لوڈ پالیسی پر اتفاق کا خیرمقدم کرتے ہوئے موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے انفراسٹرکچر کے تحفظ کے لیے حکومت سے تعاون کی اپیل کی۔
اجلاس کے دوران ٹرانسپورٹرز نے ایکسل لوڈ پالیسی، ایس آر او سے متعلق معاملات، موٹرویز پر گاڑیوں کو درپیش مشکلات اور دیگر انتظامی مسائل سے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا۔
عبدالعلیم خان نے یقین دہانی کرائی کہ ٹرانسپورٹرز کے جائز مطالبات فوری طور پر حل کیے جائیں گے، جبکہ مزدا ایسوسی ایشن اور 10 وہیلر گاڑیوں کو درپیش مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزیر نے ٹرانسپورٹرز پر زور دیا کہ وہ احتجاج یا انتہائی اقدامات سے گریز کریں اور اپنے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
یہ بھی پڑھیں: بیرون ملک سفارت خانوں میں بھی کروڑوں کی بے قاعدگیاں
عبدالعلیم خان نے گڈز ٹرانسپورٹ شعبے کے نمائندوں کو پیر کے روز اسلام آباد میں مزید مذاکرات کے لیے مدعو کرتے ہوئے کہا کہ زیر التوا معاملات کے حل کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ قومی مفاد میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا، حکومت اور ٹرانسپورٹ شعبے کا تعاون موٹرویز اور قومی شاہراہوں کے تحفظ اور ٹرانسپورٹرز کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔












