آزاد کشمیر کے پہلے انتخابی معرکے نے حکمران اتحاد میں دراڑ ڈال دی۔ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے نتائج ماننے سے انکار کر دیا، جبکہ بلاول بھٹو، راجہ پرویز اشرف، مریم نواز، شرجیل میمن اور عظمیٰ بخاری کے بیانات نے سیاسی درجہ حرارت کو آسمان پر پہنچا دیا۔ دیکھیے یہ خصوصی رپورٹ۔
آزاد جموں و کشمیر کے پہلے انتخابی مرحلے کے بعد سیاسی میدان میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ حکمران اتحاد کے دو بڑے اتحادی، پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) آمنے سامنے آ گئے ہیں، جبکہ دھاندلی کے الزامات نے سیاسی ماحول کو شدید کشیدہ بنا دیا ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میرپور ڈویژن کے انتخابی نتائج مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مرحلے کے انتخابات سے پہلے ان کے تمام مطالبات تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ "مظفرآباد سری نگر نہیں، ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے نہیں دیں گے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 30 پولنگ اسٹیشنوں پر قبضے کے شواہد موجود ہیں، الیکشن کمیشن فوری کارروائی کرے، جبکہ پیپلزپارٹی اپنی تمام نشستیں قانونی اور آئینی طریقے سے واپس حاصل کرے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چوہدری یاسین کی نشست اسمبلی وجود میں آنے سے پہلے واپس دلوائی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری کریں گے، کوئی اور نہیں۔ انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ آنے تک مزید احتجاج نہ کیا جائے، جبکہ مظفرآباد میں انٹرنیٹ سروس فوری بحال کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ادھر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی دھاندلی کے مبینہ ثبوت میڈیا کے سامنے لے آئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں جمہوریت کا مذاق اڑایا گیا اور ایسی بھیانک دھاندلی کی گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔
راجہ پرویز اشرف نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کو جعلی طریقے سے کامیاب کرایا گیا، کالے اور سفید کپڑے پہننے والے افراد نے بیلٹ پیپرز پر ٹھپے لگائے، پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بیلٹ باکس جلانے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
دوسری جانب بلاول بھٹو کے الزامات پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ "پیپلزپارٹی دھاندلی کا رونا رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟” انہوں نے کہا کہ دھاندلی کی باریک واردات کی ماسٹر خود پیپلزپارٹی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علیمہ خان اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ گرفتاری جاری
اس بیان پر سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے بھی سخت ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ آپ نہیں، فارم 47 کا نشہ بول رہا ہے۔ قیامت تو 2024 میں آ گئی تھی، جب خیرات میں مینڈیٹ تقسیم کیا جا رہا تھا۔”
اسی دوران پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری بھی میدان میں آ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ میرپور ڈویژن کے عوام نے پنجاب کی ترقی دیکھ کر ووٹ دیا ہے، بلاول بھٹو پنجاب آئیں، انہیں ترقی دکھائیں گے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ انتخابی نتائج کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے گزشتہ 18 ماہ میں جو ترقیاتی کام کیے، وہ سب کے سامنے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی پہلے اپنی 18 سالہ کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کراچی کو کس حال پر چھوڑا گیا اور لاڑکانہ کی حالت بھی کیوں نہ بدل سکی۔
آزاد کشمیر کے پہلے انتخابی مرحلے نے صرف سیاسی تنازع ہی نہیں کھڑا کیا بلکہ حکمران اتحاد کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اب نظریں الیکشن کمیشن کی کارروائی، دوسرے مرحلے کے انتخابات اور حکومت و اتحادیوں کی آئندہ حکمت عملی پر مرکوز ہیں، کیونکہ یہ تنازع آزاد کشمیر کی سیاست کا رخ بدل سکتا ہے۔












