انقرہ ( پاک ترک نیوز) صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہےکہ ترکیہ قانون کی حکمرانی کے تحت ’فتح اللہ دہشت گرد تنظیم‘ (فیٹو) کے خلاف اپنی لڑائی اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک کہ یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔
وہ گذشتہ روز یہاں انقرہ میں15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کے 10 سال مکمل ہونے پر ” عزم ہمارا، فتح ہماری” کے عنوان سے منعقدہ مرکزی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔
صدر اردوان نے بغاوت کی کوشش کے دوران ہلاک ہونے والے 253 افراد اور زخمی ہونے والے ہزاروں لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور بغاوت کرنے والوں کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ فیٹو کا وجود برقرار ہے۔ اس لیے فیٹو کے خلاف لڑائی جاری رہے گی۔ ہم قانون کی حکمرانی کے تحت صبر کے ساتھ فیٹو کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک کہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو جائے۔
ترک صدرنے کہا کہ حکام اس گروہ کے مبینہ خفیہ ارکان کو ہدف بنانا جاری رکھیں گے۔ اور ساتھ ہی ان جالوں اور چالوں سے بچیں گے جن میں فیٹو ہمیں پھنسانا چاہتا ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ وہ احتیاط کے ساتھ کارروائی کریں گے۔
اردوان نے کہا کہ اب ہر کسی کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے راستہ ختم ہو چکا ہے۔ ترکیہ کے خلاف دشمنی کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اردوان نے فیٹو پر جسے انقرہ 2016 کی بغاوت کی کوشش کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے الزام لگایا کہ اس نے اقتدار پر قبضے کی کوشش کے دوران پارلیمنٹ، صدارتی کمپلیکس، فوجی ہیڈ کوارٹرز، پولیس کے مراکز، ٹی آر ٹی (ٹی آر ٹی اور ترک سیٹ سمیت اہم ریاستی اداروں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ اس تنظیم کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا جاسوسی نیٹ ورک ہے جو کینسر کے خلیات کی طرح جسم کو اندر سے کھا جاتا ہے۔ اور مزید کہا کہ ترکیہ اس وقت تک اپنی لڑائی جاری رکھے گا جب تک کہ اس کا مکمل خاتمہ نہ ہو جائے۔
بعد ازاںاسی مناسبت سے ترک پارلیمنٹ سےاپنے خطاب میں صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ کی بہادرانہ مزاحمت نے ملک پر سامراجی ایجنڈا مسلط کرنے کی غدارانہ کوشش کو ناکام بنا دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سازش کے پیچھے کارفرما قوتوں نے ابھی ہار نہیں مانی ہے۔ایک صدی قبل لڑی گئی ترکیہ کی جنگِ آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے اردوان نے کہا کہ گرینڈ نیشنل اسمبلی نے غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بننے والوں کے خلاف ایک بار پھر اپنے عزم کا ثبوت دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ ڈی ایس آر بنک کا بانی رکن بنے کا
انہوں نے کہا، "قابض قوتوں کو شکست دینے کے ایک صدی بعد، 15 جولائی کو یہ تجربہ کار پارلیمنٹ ایک بار پھر سامراج کے آلہ کاروں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوئی۔” انہوں نے ان قانون سازوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے بغاوت کرنے والی قوتوں کے براہِ راست حملے کے باوجود اپنی جگہ برقرار رکھی۔
صدراردوان نے کہا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہمارا سامنا ایک ایسی ذہنیت سے ہے جو جمہوریت کا استحصال کرتی ہے، اقتدار کے حصول کے لیے اداروں میں گھس بیٹھتی ہے اور اپنے ہی عوام کے خلاف ہتھیار اٹھاتی ہے۔
انہوں نے گزشتہ دہائی کو قومی ترقی اور تبدیلی کا دور قرار دیا اور ترکی کی پیش رفت کو براہِ راست ریاستی اداروں سےفیٹو کے اثر و رسوخ کے خاتمے سے منسوب کیا۔انہوں نے اعلان کیا کہ گزشتہ دہائی کے دوران دفاع اور معیشت سے لے کر سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی تک ترکیہ کی کامیابیاں فیٹو کے خاتمے کی بدولت ہی ممکن ہو سکی ہیں۔” اپنی بات کا پُراعتماد انداز میں اختتام کرتے ہوئے، اردوان نے اعلان کیا کہ جس وژن کو فیٹو نے پٹری سے اتارنے کی کوشش کی تھی وہ اب کامیابی کے ساتھ اپنی راہ پر گامزن ہے اور کوئی بھی چیز اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ترکیہ کی صدیس کی راہ میںفیٹو نے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی تھی اب عملی طور پر شروع ہو چکی ہے۔ کوئی بھی تاریک قوت اسے روک نہیں پائے گی۔












