انقرہ (پاک ترک نیوز) ترکیہ نے کینیڈا کو باضابطہ طور پر مطلع کیا ہے کہ وہ ڈیفنس سیکیورٹی اینڈ ریزیلینس بینک(ڈی ایس آر بی) کے قیام میں بطور بانی رکن شامل ہوگا۔
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے گزشتہ ہفتے انقرہ میں نیٹو کے سربراہی اجلاس کے دوران کہا تھا کہ ترکیہ سمیت نو ممالک نے اس بینک میں شمولیت کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اس اقدام کو اتحادی ممالک کو دوبارہ مسلح کرنے کی کثیر الجہتی کوششوں کے لیے ایک تقویت سمجھا جا رہا ہے۔
ہفتے کے آخر میں ترکیہ کی وزارتِ دفاع کے ذرائع نے کہا تھا کہ ترکیہ ابھی تک اس بنک میں ممکنہ شمولیت کا جائزہ لے رہا ہے۔اب منگل کے روزایک ترک عہدیدار نےمیڈیا کو بتایا ہے کہ "ترکیہ نے کینیڈا کو باضابطہ طور پر مطلع کر دیا ہے کہ وہ اس بینک میں شامل ہوگا۔”
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے کان جیٹ کے لئے امریکی انجنوں کی فراہمی کی راہ ہموار ہو گئی
وزیر اعظم کارنی کے گزشتہ ہفتے کے بیان کے مطابق اب تک البانیہ، بیلجیم، یونان، لٹویا، لکسمبرگ، رومانیہ، ترکیہ اور یوکرین نے اس بینک کی حمایت کا وعدہ کیا ہے۔ جس کا ہیڈکوارٹر کینیڈا میں ہوگا۔تاہم اس فہرست میں کینیڈا کے علاوہ جی-7 کے کسی بڑے ملک کا نام شامل نہیں۔جس سے بینک کی مالی استطاعت محدود ہو سکتی ہے۔ تاہم کینیڈانے اعلان کیا ہے کہ یہ بینک نئے اراکین کے لیے کھلا رہے گا۔
اس بینک کا مقصد کم لاگت والی فنانسنگ کے ذریعے 100 ارب پاؤنڈ تک کی رقم اکٹھی کر کے ہم خیال اتحادی ممالک کے دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔
کارنی دی ایس آر بنک کورواں سال درمیانے درجے کی طاقتوں کے اتحاد کے لیے کئے گئے اپنے اس مطالبے کے حصے کے طور پر فروغ دے رہے ہیں۔ جس کا مقصد امریکہ کی قیادت والے روایتی عالمی نظام میں دراڑ پڑنے کے رجحان کا مقابلہ کرنا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے پہلےسابق نیٹو سیکیورٹی مشیروں، ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی حکام اور بینکرز کے ایک گروپ نے 2024 میں اس بینک کے قیام کی تجویز پیش کی تھی۔












