کابل ( پاک ترک نیوز) افغانستان میں طالبان رجیم تقسیم کا شکار ، طالبان کمانڈر قتل، امن وامان کے دعوے زمین بوس ہو گئے،افغان رجیم کے اندرونی خلفشار اور بگڑتی سیکیورٹی صورتحال نے طالبان کے نام نہاد امن و استحکام کے بیانیے کی قلعی کھول دی۔افغان طالبان رجیم جہاں عوام کو تحفظ دینے میں ناکام رہی وہاں اہم افغان کمانڈرز کو بھی حفاظت فراہم نہ کر سکی۔
معروف افغان جریدے دی افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق ننگرہار کے ضلع چپرحار میں افغان طالبان کے مقامی کمانڈر کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا۔ قتل کے شبے میں اس کے سگے بھائی کو ہی گرفتار کر لیا گیا،سرکاری اعلامیے کے مطابق مقتول کمانڈر کی شناخت ‘مسافر’ کے نام سے ہوئی، مقتول کمانڈر چھٹی گزارنے کے لیے اپنے گھر گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان رجیم کی سفارتی تنہائی،افغانستان کیلئے امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی
ماہرین کے مطابق افغان طالبان کمانڈرز پر حملوں کے بڑھتے واقعات داخلی اختلافات، مقامی مزاحمت اور سیکیورٹی کی بدترین صورتحال کی عکاس ہے۔افغان طالبان رجیم کو بیک وقت اندرونی بغاوت، بڑھتے حملوں اور سیکیورٹی بحران جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔طالبان کمانڈر کی ہلاکت واضح ثبوت ہے کہ طالبان رجیم کیخلاف نفرت اب عوامی سطح پر شدت اختیار کر گئی ہے۔












