
از : سہیل شہریار
بھارتی ایئر فورس کے فرانس سے حکومت کے حکومت سے معاہدے (جی ٹو جی) کے تحت 114رافیل لڑاکا طیارے خریدنے کے منصوبے کو بڑا دھچکا لگا ہے۔کیونکہ فرانس نےبھارت کو طیارے کے سورس کوڈ کی فراہمی سے انکار کر دیا ہے۔ سورس کوڈوہ ڈیجیٹل دل ہے جو طیارے کے مشن کے نظام، ہتھیاروں کے انضمام، اور ایویونکس کو کنٹرول کرتا ہے۔
فرانسیسی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل لابنگ کے باوجودرافیل طیارے بنانے والی کمپنی دوسالٹ ایوی ایشن نے کہا ہے کہ سورس کوڈ کمپنی کے سافٹ ویئر کے فن تعمیر کا کمال اور کئی دہائیوں کے حساس صنعتی علم کی نمائندگی کرتا ہے۔جسےکسی صورت غیر ملکی آپریٹرز کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ بھارت کا اصرار ہے کہ اسے اپنے دیسی ساختہ ہتھیاروں کا طیارے کے ساتھ تال میل بنانے کے لئےسورس کوڈ لازمی درکار ہے۔ اس ضمن میں فرانس نے مشترکہ تکنیکی ٹیموں اور محدود سافٹ ویئر کٹس کے ذریعے محدود تعاون کی پیشکش کی ہے۔
بھارتی فضائیہ اپنی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے۔جہاں ایک جانب معرکہ حق کے دوران اسکی افرادی قوت کی جنگی استعداد کی حقیقت سامنے آ گئی وہیں سامان حرب کے حوالے سے بھی اس پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ اب سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ ہندوستانی فضائیہ اپنی اب تک کی سب سے کم سکواڈرن طاقت پر پہنچ گئی ہے اور اب مگ۔21کے بیڑے کی ریٹائرمنٹ کی وجہ سے بحران مزید بڑھ گیا ہے۔ اب اگلے ماہ ریٹائر ہونے والے آخری مگ۔21سکواڈرن کے ساتھ ہندوستانی فضائیہ کی طاقت سکڑ کر 29 سکواڈرن رہ جائے گی جو ملک کی تاریخ میں سب سے کم ہے۔
ادھرپاکستان کی جانب سے چین سےپانچوں نسل کے 40 اسٹیلتھ جے۔35ای لڑاکا طیاروں کا حصول بھی نئی دہلی کے اپنے رافیل بیڑے کو توسیع دینے کے مبینہ اقدام میں فیصلہ کن کردار ادا کررہا ہے۔
یقینی طور پر جے۔35ای کی شمولیت، اس کی پانچویں نسل کی سٹیلتھ خصوصیات اور طویل فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیتوں کے ساتھ پاکستان ایئر فورس کی فضائی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہو گا۔ اوریہ بات ہندوستان کو اپنی تکنیکی مسابقت کی حفاظت کے لیے 4.5نسل کے رافیل طیارے پر انحصار پر مجبور کر رہی ہے۔مگر فرانس کا رافیل کے سورس کوڈ بھارت کے حوالے کرنے سے انکاراس ممکنہ معاہدے کی راہ میں بڑی روکاو ٹ بن گیا ہے ۔
https://www.youtube.com/watch?v=rlESnRimjmM
ہندوستانی دفاعی عہدیداروں کے مطابق انڈین ائر فورس حکومت کواکتوبر میں باقاعدہ طور پر رافیل طیاروں کی فوری خریداری کے لئے اپنا کیس پیش کرے گی۔ کیونکہ مئی میں پاکستان کے ساتھ مختصر لیکن شدید سرحدی تنازعےمیں بھارت مبینہ طور پر چھ فرنٹ لائن جیٹ طیارے کھو بیٹھا ہےجن میں تین رافیل بھی شامل ہیں۔اس پس منظر میں، آئی اے ایف کے کمانڈروں کا استدلال ہے کہ رافیل کی براہ راست جی ٹو جی خریداری عالمی ٹینڈر کے مقابلے میں تیز اور زیادہ کفایتی ہوگی۔
بھارت کے پاس پہلے ہی 36 رافیل موجود ہیں جو 2016 میںکیے گئے7.8 ارب ڈالرکے معاہدے کے تحت حاصل کیے گئے تھے۔اور ان کی ترسیل 2022 میں مکمل ہوئی تھی۔یہ رافیل پاکستان کے قریب امبالہ ایئربیس اور چینی سرحد کے قریب ہسیمارا ایئربیس پر تعینات ہیں۔ جو بھارت کے دو محاذ جنگ کے نظریے میں ان کے کردار کو واضح کرتا ہے۔اب اپریل 2025 میںبھارت نےاپنے طیارہ بردار جہازوں پر متعین مگ۔29جہازوں کو تبدیل کرنے کے لئے بھی 26رافیل طیارے خریدنے کے لئے 7.4ارب ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔
مگر ان سب معاہدوں کے باوجود فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ سورس کوڈ تک رسائی کی صورت میں اسے سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ جیسے ریورس انجینئرنگ، سایبر مداخلت، اور حریف ریاستوں کو ایکسپورٹ لیک وغیرہ۔فرانس نے بھارت کو سورس کوڈ نہ دینے کی ایک وجہ یہ بھی بتائی ہے کہ ایسا کرنے کی صورت میں مصر، قطر اور انڈونیشیا جیسے دیگر رافیل آپریٹرز کے لیے مثال قائم ہو سکتی ہے جس سے طیارہ ساز کمپنی کے برآمدی مفادات کو نقصان پہنچے گا۔اور سب سے اہم یہ کہ تیسرے فریق کی طرف سے غیر مجاز ترمیمات ایئر فریم کی سالمیت، حفاظتی سرٹیفیکیشنز، اور طویل مدتی معاونت کے معاہدوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔جو ممکنہ طور پر پورے رافیل ایکسپورٹ پروگرام کو نقصان پہنچا نے کاباعث بن سکتاہے۔












