اسلام آباد ( پاک ترک نیوز) سولر صارفین کے لیے بجٹ میں ایک اہم خبر سامنے آئی ہے جس نے لاکھوں گھریلو اور کاروباری صارفین کو ریلیف دیا ہے۔ وفاقی حکومت نے سولر پینلز پر سیلز ٹیکس میں کسی نئے اضافے سے گریز کرتے ہوئے موجودہ شرح برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث بڑی تعداد میں لوگ سولر توانائی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ ہزاروں گھروں اور کاروباری مراکز میں سولر سسٹمز نصب کیے جا چکے ہیں تاکہ بجلی کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔
بجٹ پیش کرتے ہوئے حکومت کا مؤقف تھا کہ یہ فیصلہ عوامی سہولت اور قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق گرین انرجی کو فروغ دینا نہ صرف توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ملک کے توانائی کے مستقبل کے لیے بھی اہم ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے سولر پینلز پر ٹیکس رعایت ختم کرنے اور سیلز ٹیکس کو 18 فیصد تک بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم حکومت نے اس تجویز کو بجٹ میں شامل نہیں کیا اور موجودہ پالیسی برقرار رکھی۔
یاد رہے کہ گزشتہ بجٹ میں درآمدی سولر پینلز پر 18 فیصد جی ایس ٹی عائد کیا گیا تھا، جس پر صارفین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔ بعد ازاں حکومت نے یہ شرح کم کرکے 10 فیصد کر دی تھی، لیکن اس کے باوجود سولر سسٹمز کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔
موجودہ فیصلے کے بعد سولر مارکیٹ میں استحکام کی امید پیدا ہوئی ہے اور صارفین اسے ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔ تاہم اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا یہ ریلیف مستقبل میں بھی برقرار رہے گا یا سولر سیکٹر کو دوبارہ کسی نئی ٹیکس پالیسی کا سامنا کرنا پڑے گا؟












