تہران ( پاک ترک نیوز)مشرق وسطیٰ میں حالات پھر خراب ہو گئے ،امریکا اور ایران نے ایک دوسرے کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ،آبنائے ہرمز میں بھی دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کو دنیا بھر کو تیل کی سپلائی پھررک گئی،۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکا نے ایران کے کئی شہروں پر حملے کیے ، ۔۔ایران کے شہر میناب، سیرک اور جزیرہ کیش میں دھماکے ہوئے ، ایران کے صوبہ فارس، مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام متحرک ہوگیا۔
ایرانی خبر ایجنسی کے مطابق قشم اور ہینگام جزائر پر میزائل حملے ہوئے۔ ایرانی بندرگاہ گرگان اور ساحلی شہر بندر عباس اور میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا،،،حملے ایران کی بلاجواز اور مسلسل جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔ دشمن کے حملوں کو روکنے کیلئے مغربی تہران میں فضائی دفاعی نظام فعال ہو گیا۔ خلیج فارس کے ساحلی علاقوں میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا۔
امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ پر ڈرون حملہ کیا جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب امریکی بحری جہازوں کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ ان کے میزائل حملے کے بعد ایک امریکی ایف سولہ طیارہ پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔
ایرانی فوج نے عراق کے شہر اربیل میں موجود امریکی اڈوں پر بھی میزائلوں اور ڈرونز سے حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جس کے بعد خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات مزید بڑھ گئے۔
آبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں ہوئیں ،جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز مکمل طور پربند کرنے کااعلان کر دیا ۔خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی وارننگ دے دی۔ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی اس گزرگاہ کی بندش نے دنیا بھر کی منڈیوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ تہران نے مذاکرات میں بہت دیر کر دی ،اب اسے قیمت چکانا پڑے گی ایران کی فوجی طاقت بری طرح متاثر ہو چکی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو پاور پلانٹس اور پلوں سمیت اہم تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بمباری کے ذریعے کسی قوم کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ ایران اپنی سرزمین، خودمختاری اور قومی وقار کے دفاع کے لیے ہر سطح پر مزاحمت جاری رکھے گا۔
ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا اگر دوبارہ جنگ مسلط کی گئی تو یہ صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات پوری دنیا محسوس کرے گی۔
امریکی حملے، ایرانی جوابی کارروائیاں، آبنائے ہرمز کی بندش اور بڑھتی ہوئی دھمکیاں۔۔۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ایک نئی اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر پہنچ چکی ہے؟ یا پھر سفارت کاری آخری لمحے میں اس بحران کو روکنے میں کامیاب ہو جائے گی؟ آنے والے چند گھنٹے مشرقِ وسطیٰ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مستقبل کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔












