جمعرات , 6 اگست , 2026
  • لاگ ان کریں
پاک ترک نیوز
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت
No Result
View All Result
پاک ترک نیوز
No Result
View All Result
Home تازہ ترین

امریکہ کے منجمد کردہ ایرانی اثاثوں کی اصل مالیت کیا ہے؟

2 مہینے پہلے
A A
What is the actual amount of Iranian assets frozen by the USA
Share on Facebookwhatsapp

از: سہیل شہریار

ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے اربوں ڈالر مالیت کے منجمد اثاثوں کی اصل مالیت کیا ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہےجسکا مکمل اور درست جواب پچھلے 47سالوں میں معلوم نہیں ہو سکا۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ ایران کے اثاثے مختلف شکلوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں منجمد ہیں۔

اب ایک مرتبہ پھر پاکستان کی بطور ثالث مخلصانہ کاوشوں کی بدولت امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ بندی کے بعدمجوزہ امن معاہدے کی راہ میں ایرانی منجمد اثاثوں کی واپسی کا معاملہ اہم پیچیدگی بن کر سامنے آگیا ہے۔ اورایران کا سرکاری میڈیا اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے توسط سے متعدد بار اس امر کی تصدیق کر چکا ہے کہ جنگ بندی کے بعد منجمد اثاثوں کا معاملہ امن معاہدے کو حتمی شکل دینے میں امریکی سنجیدگی کے لیے بنیادی امتحان بن کر سامنے آیا ہے۔

ایرانی حکومت اور میڈیا کی جانب سے گزشتہ چار دہائیوں کے دوران یہ بیانات سامنے آتے رہے ہیں کہ امریکہ نے ایران کی قومی دولت کے اربوں ڈالر روکے ہوئے ہیں۔مگر آج تک کسی ایرانی عہدیدار نے ان اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔ جبکہ اقتصادی سیاسیات کے ماہرین کی جانب سے ایسے تجزیے بھی سامنے آتے رہے ہیں کہ منجمد ایرانی اثاثوں کی اصل مالیت کے بارے میں ایران میںبرسراقتدار افراد بھی آگاہ نہیں کیونکہ اربوں ڈالر کے ایرانی اثاثے ایسے بھی ہیں جنہیں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے انتہائی خفیہ رکھا تھا۔البتہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ان منجمد اثاثوں میں تیل کی آمدن، مرکزی بینک کے ذخائر اور تجارتی اثاثے شامل ہیں۔

تاریخی اعتبار سےایرانی اثاثوں کاسب سے بڑا انجماد 14 نومبر 1979 کو صدر جمی کارٹر کے ایگزیکٹیو آرڈر سے عمل میں آیا تھا۔ اور نتیجتاً امریکی بینکوں میں موجود تقریباً آٹھ سے گیارہ ارب ڈالر مالیت کے ایرانی سرکاری اثاثے منجمد کر دیے گئےتھے۔اور تمام امریکی بنکوں نے ایران سے لین دین ختم کر دیا تھا۔یہیں پر بس نہیںامریکی پابندیوں نے صنعتی اور توانائی کے شعبوںکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس سے شیل، جنرل الیکٹرک اور بوئنگ جیسی عالمی کمپنیوں نے ایران میں اپنے منصوبے ترک کر دیے۔ اورایران کا سرمایہ کئی ادھورےمنصوبوں میں پھنس گیا۔

تب پہلی بار1981 کے الجزائر معاہدوں کے تحت منجمد اثاثوں کا کچھ حصہ ایران کو واپس کیا گیا۔ جس سے ایران کو تقریباً 3.6 ارب ڈالر ملے۔ جو اصل منجمد شدہ رقم کے ایک تہائی کے برابر تھے۔ جبکہ باقی رقم امریکی کمپنیوں اور شہریوں کی جانب سے دائر کردہ دعوؤں کی ادائیگی کے لیے روک لی گئی۔جس کے لئے دی ہیگ میں ایران۔ امریکہ کلیمز ٹربیونل قائم کیا گیا۔ جو آج بھی دونوں ممالک کے درمیان مالی اور تجارتی تنازعات کی سماعت کر رہا ہے۔

حقیقت یہی ہے کہ ایران کے منجمد اثاثوں کی کل مالیت کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار موجود نہیں۔ تاہم 2015 میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کے حجم کے بارے میں متعدد اور متضاد اندازے سامنے آئے۔تب اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے پہلے تو منجمد ایرانی اثاثوں کی مالیت تقریباً 100 ارب ڈالر بتائی۔مگر بعدمیں یہ تخمینہ کم کرتے ہوئے اسے 50 سے 60 ارب ڈالر کے قریب قرار دیا۔جبکہ اسی برس ایران کے مرکزی بنک نے امریکہ سے باہر منجمد ایرانی اثاثوں کی مالیت 30ارب ڈالر کے لگ بھگ قرار دی ۔ان میں بھارت میں 6ارب ڈالر کے علاوہ متحدہ عرب امارات، جاپان اور جنوبی کوریا میں 23ارب ڈالر شامل تھے۔

ایرانی منجمد اثاثوں کے حوالے سے دلچسپ امر یہ ہے کہ 2015کے جوہری معاہدے کے تحت اثاثوں کی بحالی سے ایران کو تقریباً 50 سے 60 ارب ڈالر تک کے منجمد فنڈز تک رسائی ملی جو زیادہ تر ایسکرو اکاؤنٹس میں رکھے گئے تھے۔ تاہم یہ بحالی عارضی ثابت ہوئی اورڈونلڈ ٹرمپ نے2018 میں امریکا کی صدارت سنبھالتے ہی یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی اور ایران پر سخت پابندیاں دوبارہ نافذ کر دیں۔

حالیہ برسوں میںستمبر 2023 میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی کے نتیجے میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدےنے ایک بار پھر منجمد ایرانی اثاثوں میں سےتیل آمدنی کے تقریباً چھ ارب ڈالر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں قائم ’رسٹرکٹڈ اکاؤنٹس‘ میں منتقل ہوت ہوئے دیکھے۔ مگر اگلے ہی سال اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے بعدامریکی پارلیمان نے یہ فنڈز دوبارہ منجمد کر دئیے۔

اب امریکہ۔ ایران امن معاہدے کے طے پانے کی اطلاعات کے ساتھ ایرانی منجمداثاثوں کی بحالی کے معاملے پر فریقین کے درمیان اختلاف کی خبریں بھی میڈیا کی زینت بن رہی ہیں ۔یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران اپنے تمام منجمد اثاثوں کی بحالی کے ساتھ حالیہ جنگ اور آبنائے ہرمز کی امریکی بندش سے ہونے والے نقصانات کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس کے جواب میں امریکہ نے اپنے عرب اتحادیوں سے جنگ میں ہونے والے نقصانات کے تخمینے مانگ لئے ہیں تاکہ ایرانی منجمد اثاثوں سے انہیں منہا کیا جا سکے۔

موضوعات : #iraniassestferozeniranUSA
ShareSend

متعلقہ خبریں

The threat of cyberattacks on US water systems has increased; investigations are underway.
تازہ ترین

امریکا کے آبی نظام پر سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا، تحقیقات جاری

6 اگست , 2026
Pakistan is making efforts, in collaboration with brotherly nations, to resolve the Strait of Hormuz issue, says the Foreign Office spokesperson.
تازہ ترین

پاکستان برادر ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کے معاملے کو حل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے ،ترجمان دفتر خارجہ

6 اگست , 2026
The US has lifted sanctions on three airlines and two aircraft linked to the Revolutionary Guard.
تازہ ترین

امریکہ نے پاسداران انقلاب سے منسلک تین ایئر لائنز اور دو طیاروں سے پابندیاں اٹھا لیں

5 اگست , 2026
Trump claims deal with Iran could be reached today
تازہ ترین

ایران کے ساتھ آج معاہدہ طے پا سکتا ہے ،ٹرمپ کا پھر دعوی

5 اگست , 2026
The expected agreement with Oman has no connection to the US; the Strait of Hormuz will not open immediately Iran.
تازہ ترین

عمان سے متوقع معاہدے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں، آبنائے ہرمز فوری نہیں کھلے گی، ایران

5 اگست , 2026
25 US states, including two Republican states, sue Trump administration
تازہ ترین

دو ریپبلکن ریاستوں سمیت 25امریکی ریاستوں کا ٹرمپ انتظامیہ پر مقدمہ

4 اگست , 2026
اگلی خبر
Security forces kill 2 Khawarijis in Mohmand operation

سکیورٹی فورسز کی مہمند میں کارروائی،2خوارجی ہلاک

یہ بھی پڑھیں

The death of Mir Raza Ali has become a mystery; his father has raised serious questions regarding the investigation.

میر رضا علی کی موت معمہ بن گئی، والد نے تحقیقات پر سنگین سوالات اٹھا دیے

6 اگست , 2026
MDCAT 2026 date changed; new schedule released.

ایم ڈی کیٹ 2026 کی تاریخ تبدیل، نیا شیڈول جاری

6 اگست , 2026
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif departs for Riyadh on a two-day visit to Saudi Arabia.

وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے دو روزہ دورہ سعودی عرب پر ریاض روانہ

6 اگست , 2026
The PCB has imposed a fine and a ban on cricketer Hamza Nazar.

پی سی بی نے کرکٹر حمزہ نذرپر جرمانہ اور پابندی لگادی

6 اگست , 2026
'Spider-Man' has taken the box office by storm, setting impressive records in just a few days.

’اسپائیڈر مین‘ نے باکس آفس پر دھوم مچا دی، چند ہی دنوں میں شاندار ریکارڈ قائم

6 اگست , 2026

ہمارے بارے میں

"پاک ترک نیوز" ایک غیر جانب دار اردو نیوز ویب سائٹ ہے جو پاکستان، ترکی اور دنیا بھر کی اہم خبروں، تجزیات، اور فیچر مضامین کو اردو قارئین تک بروقت اور مستند انداز میں پہنچانے کا عزم رکھتی ہے۔ ہم پاک ترک تعلقات، عالمی سیاست، معیشت، ثقافت، اور سوشل ایشوز کو ایک نیا زاویہ دیتے ہیں، تاکہ قارئین باخبر، با شعور اور با اثر رہیں۔

  • صفحہ اول
  • پاکستان
  • تازہ ترین
  • ترکک
  • دنیا
  • ہمارے بارے میں
  • شرائط و ضوابط
  • پرائیویسی پالیسی
  • اعلانِ لاتعلقی
  • رابطہ کریں

ہمارا سوشل میڈیا فالو کریں

Facebook Twitter Instagram Youtube

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • تازہ ترین
  • پاکستان
  • ترکیہ
  • دنیا
  • کھیل
  • معیشت
  • کالم/بلاگز
  • ٹیکنالوجی
  • تعلیم و صحت

Copyright 2026 © تمام اشاعتی حقوق پاک ترک نیوز کے محفوظ ہیں۔ بغیر اجازت نقل و اشاعت کی اجازت نہیں۔