ریاض ( پاک ترک نیوز) سعودی عرب کے میگا پروجیکٹ نیوم سے متعلق مالی دباؤ میں اضافہ سامنے آیا ہے، جہاں بعض معاہدوں کی منسوخی کی صورت میں حکومت کو اربوں ڈالر کے اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی حکام کو توقع ہے کہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران نیوم کے مختلف منصوبوں اور ٹھیکوں کو ختم کرنے پر تقریباً تقریباً 16 ارب ڈالر تک کی ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ یہ رقم طے شدہ معاہدوں کی منسوخی کی صورت میں جرمانے اور کنٹریکٹ شرائط کے تحت ادا کی جائے گی۔
نیوم منصوبہ، جو سعودی عرب کے شمال مغربی علاقے میں تعمیر کیا جا رہا ہے، ابتدا میں ایک کھرب ڈالر سے زائد لاگت کا طویل المدتی وژن سمجھا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ مالی دباؤ اور ترجیحات میں تبدیلی کے باعث اس کے بعض حصوں پر نظرثانی اور ممکنہ طور پر التوا یا منسوخی کی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق دی لائن جیسے بڑے اور بلند و بالا منصوبوں کی ممکنہ معطلی یا تبدیلی سے متعلق فیصلوں کے نتیجے میں بھی بھاری مالی اخراجات سامنے آ سکتے ہیں، جو سعودی حکومت کے آئندہ بجٹ خسارے کا ایک بڑا حصہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب اس وقت اپنی سرمایہ کاری کی ترجیحات پر نظرثانی کر رہا ہے، جس میں دفاعی اخراجات میں اضافہ، مصنوعی ذہانت، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور عالمی ایونٹس جیسے ایکسپو 2030 اور فیفا ورلڈ کپ 2034 کی تیاریوں پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق نیوم جیسے بڑے منصوبوں میں معاہدوں کی پیچیدگی کے باعث کسی بھی تبدیلی یا روک تھام کے نتیجے میں مالی اخراجات انتہائی زیادہ ہو جاتے ہیں، جو حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔
نیوم منصوبہ اب بھی سعودی عرب کے وژن 2030 کا اہم حصہ ہے، تاہم اس کی رفتار اور مالی حکمت عملی پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔












