گلگت ( پاک ترک نیوز) گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آ گئی ، جبکہ حکومت سازی کے لیے سیاسی جوڑ توڑ کا آغاز ہو گیا ہے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کل 33 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں 24 براہ راست منتخب نشستیں، 6 خواتین کی مخصوص نشستیں اور 3 ٹیکنوکریٹ نشستیں شامل ہیں۔حکومت سازی کے لیے کسی بھی جماعت یا اتحاد کو 17 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔
اب تک 24 براہ راست نشستوں میں سے 18 نشستوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں۔ان نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی 9 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔گلگت بلتستان میں چھ آزاد امید وار بھی جیت گئے ،مسلم لیگ ن کو دو اور مجلس وحدت المسلمین کو ایک نشست ملی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ گلگت بلتستان میں تیروں کی بارش ہو گئی
بلاول بھٹو نے کہا پیپلز پارٹی اکثریتی جماعت بن کر سامنے آئی ہے اور پارٹی حکومت سازی کے لیے بھرپور کوشش کرے گی۔ بلاول بھٹو نے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور وہ جیالوں کو اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دیتے ہیں۔
موجودہ نتائج کے مطابق کسی بھی جماعت کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنا ممکن نہیں دکھائی دے رہا، جس کے باعث آزاد امیدوار حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں آزاد ارکان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے تمام بڑی جماعتوں کے درمیان رابطوں اور اتحاد سازی میں تیزی متوقع ہے۔
پیپلز پارٹی اگر آزاد امیدواروں کی اکثریت کو اپنے ساتھ شامل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ حکومت بنانے کی مضبوط پوزیشن میں آ سکتی ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتیں بھی متحرک ہیں۔
ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان کے انتخابات کے بعد سیاسی منظرنامہ مکمل طور پر کھلا ہوا ہے۔ آزاد امیدواروں کی اہمیت اس بار غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے، جس سے حکومت سازی ایک پیچیدہ اور دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
حتمی نتائج مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ گلگت بلتستان میں اگلی حکومت کس اتحاد کے تحت تشکیل پائے گی۔







