ریاض (پاک ترک نیوز )مکہ مکرمہ ایک بار پھر دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماع کی میزبانی کے لیے تیار ہے، جہاں رواں سال تقریباً 15 لاکھ عازمین حج کی آمد متوقع ہے۔ تاہم اس بار حج ایسے وقت میں ہورہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگی کشیدگی اور سیکیورٹی خدشات نے صورتحال کو غیر معمولی بنا دیا ۔
یہ پہلا موقع ہے کہ سعودی عرب ایک ایسے وقت میں حج منعقد کر رہا ہے جب ملک جنگی کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے اور اس کی سرزمین پر براہِ راست حملے بھی ہو چکے ہیں۔
حج ہر سال ہونے والا عظیم مذہبی اجتماع ہے، جس میں دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان مکہ مکرمہ آتے ہیں تاکہ وہ مذہبی مناسک ادا کر سکیں، اس سال حج 25 مئی سے 29 مئی تک جاری رہے گا۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران 17 سے 18 لاکھ کے درمیان عازمین نے حج میں شرکت کی تھی۔
مورخین کے مطابق، گزشتہ 14 صدیوں میں حج صرف تقریباً 40 بار منسوخ یا محدود کیا گیا، جبکہ آخری بار ایسا 2020 میں کورونا وبا کے دوران ہوا تھا۔ ایک ہفتے سے بھی کم وقت میں لاکھوں افراد کا ایک ہی مقام پر جمع ہو کر ایک جیسے مناسک ادا کرنا ہمیشہ ایک بڑا انتظامی چیلنج رہا ہے۔ سعودی حکومت اس مقصد کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعے اجازت نامے، سخت سیکیورٹی، پروازوں، رہائش، خوراک، پانی اور طبی سہولیات کا بندوبست کرتی ہے، جبکہ شدید گرمی بھی ایک بڑا خطرہ ہوتی ہے۔
تاہم اس سال ایران جنگ نے صورتحال مزید پیچیدہ بنا دی ہے۔ یہ تنازع فروری کے آخر میں اس وقت شروع ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل کے ساتھ خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا۔
اگرچہ فی الحال جنگ بندی نافذ ہے، لیکن اس کی پائیداری پر سوالات موجود ہیں۔ گزشتہ ہفتے سعودی عرب نے تین ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن کے بارے میں کہا گیا کہ وہ عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کی جانب سے بھیجے گئے تھے۔
دو ہزار چھبیس وہ پہلا سال بھی ہے جب امریکی حکومت نے اپنے شہریوں کو حج میں شرکت پر دوبارہ غور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ امریکا نے کہا کہ مارچ کے آغاز میں غیر ہنگامی امریکی سرکاری عملے کو سعودی عرب چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
جرمنی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو سعودی عرب کے سفر سے متعلق خبردار کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر سفر ناگزیر ہو تو صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے۔تاہم جرمنی کی سنٹرل کونسل آف مسلمز کے مطابق، عازمین حج عموماً عالمی سیاسی حالات سے متاثر نہیں ہوتے۔












