نئی دہلی ( پاک ترک نیوز)
بھارتی دفاعی حلقوں میں ان دنوں ایک اہم بحث جاری ہے جس نے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال پر نئی توجہ مبذول کر دی ہے۔ معروف بھارتی دفاعی تجزیہ کار پروین ساہنی نے اپنے ایک تفصیلی تجزیے میں بھارتی فوجی حکمتِ عملی اور مستقبل کی جنگی تیاریوں سے متعلق کئی اہم نکات اٹھائے ہیں۔
ان کے مطابق جدید دور کی جنگیں صرف روایتی ہتھیاروں اور محاذوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ٹیکنالوجی، سائبر وارفیئر، مصنوعی ذہانت (AI) اور خلائی صلاحیتیں فیصلہ کن اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہی ممالک برتری حاصل کریں گے جو ڈیجیٹل اور تکنیکی میدان میں مضبوط پوزیشن رکھتے ہوں گے۔
پروین ساہنی کے مطابق چین کی پیپلز لبریشن آرمی جدید جنگی تصورات پر کام کر رہی ہے، جہاں سائبر، اسپیس اور مصنوعی ذہانت کو ایک مربوط نظام کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایسے نظام دشمن کے مواصلاتی، کمانڈ اور انفراسٹرکچر نیٹ ورکس کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تجزیے میں یہ بھی کہا گیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، جبکہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون میں اضافہ خطے کی اسٹریٹجک صورتحال کو نئی شکل دے رہا ہے۔ مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ معلومات، ڈیٹا اور جدید ٹیکنالوجی کے محاذ پر بھی لڑی جائیں گی۔
آخر میں پروین ساہنی نے اس بات پر زور دیا کہ بدلتے ہوئے جنگی تقاضوں کے مطابق حکمتِ عملی اور تیاریوں کو جدید بنانا ناگزیر ہے، بصورتِ دیگر مستقبل کے چیلنجز مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔












