
از : سہیل شہریار
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی ( این اے سی) نےرواں مالی سال 2025-26کی تیسری سہ ماہی جنوری تا مارچ میںجی ڈی پی کے تخمینے جاری کر دئیے گئے ہیںجن میں سال بہ سال 4.0 فیصد کی نمو دکھائی گئی ہے۔جبکہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں اقتصادی شرح نمو بھی اوسطاً 4.0 فیصد کے قریب رہی ہے ۔
نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے گذشتہ روز منعقدہ 117ویں اجلاس کے بعد جاری کئے گئے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق، مالی سال2025-26کے لیے قومی کھاتوں کا مجموعی حجم 408.2 ارب ڈالر کے مقابلے میں 452.1 ارب ڈالر ہو چکا ہے۔جبکہ فی کس آمدنی 1901 ڈالرتک پہنچ گئی ہے۔
کمیٹی نے جاری مالی سال 2025-26کی پہلی اور دوسری سہ ماہی کے جی ڈی پی کی نمو کے نظرثانی شدہ تخمینوں کی منظوری دی۔ پہلی اور دوسری سہ ماہی کے لیے مجموعی طور پر جی ڈی پی میں 3.92 فیصد اور 4.05 فیصد کی نظرثانی شدہ نمو دیکھنے میں آئی ہے، جب کہ ابتدائی تخمینہ 3.63 فیصد اور 3.89 فیصد تھا۔
کمیٹیکے مطابق رواں سال کی تیسری سہ ماہی کے دور ا ن مختلف شعبوں سے متعکقہ اعدادوشمار کی بھی منظوری دی جن کے مطابق زراعت کی ترقی بھی 1.76 فیصد سے 2.64 فیصد تک بہتر ہوئی ہے۔ جس کی بنیادی وجہ دیگر فصلوں میںمنفی5.69 فیصد سے 2.39 فیصد تک اور ماہی گیری میں 0.77 فیصد سے 1.47 فیصد تک اضافہ ہے۔
متذکرہ سہ ماہی کے دوران خدمات میں مجموعی نمو 4.18 فیصد رہی ہے جس میں تمام متعلقہ شعبہ جات کے اعشاریے مثبت ہیں۔ جن میںتھوک اور خوردہ تجارت4.13 فیصد، نقل و حمل اور اسٹوریج2.02 فیصد، معلومات اور مواصلات 9.78 فیصد، فنانس اور انشورنس2.90، پبلک ایڈمنسٹریشن اور سوشل سیکیورٹی8.88 فیصد، تعلیم 4.14 فیصد، صحت اور سماجی امور4.07 فیصد اور دیگر نجی خدمات3.35 فیصدبہتری آئی ۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ صنعت کے شعبے کو مسلسل گراوٹ کا سامنا ہے اور اس کے تخمینے 7.40 فیصد سے 6.68 فیصد پر آ گئے ہیں۔ اور یہ گراوٹ بنیادی طور پررئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کے شعبے کی وجہ سے ہےجس کی نمو حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے تسلسل کے ساتھ گراوٹ کاشکار ہے۔ اور اپنے ابتدائی تخمینہ 10.53 فیصد کے مقابلے میں 6.42 فیصد پر آ گئی ہے۔












